امریکا، یورپی یونین کے بعد برطانیہ کا بھی عام انتخابات پر خدشات کا اظہار

امریکا اور یورپی یونین کے بعد برطانیہ نے بھی پاکستان میں عام انتخابات کی شفافیت پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے ایک بیان میں کہا کہ برطانیہ انتخابات کی شفافیت میں کمی سے متعلق پیدا ہونے والے سنگین خدشات کو تسلیم کرتا ہے، پاکستان کی ترقی کے لیے عوامی حکومت کا منتخب ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا، ’ہمیں افسوس ہے کہ تمام جماعتوں کو با ضابطہ طور پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی، بعض سیاسی رہنماؤں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے اور ان کے انتخابی نشان پر پابندی کے لیے قانونی طریقہ کار کا غلط استعمال کیا گیا۔‘

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا، ’ہمیں پولنگ کے دن انٹرنیٹ کی بندش، نتائج جاری کرنے میں نمایاں تاخیر اور ووٹوں کی گنتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کے دعوؤں پر بھی تشویش ہے۔‘

انہوں نے پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق، معلومات تک آزادانہ رسائی اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں مداخلت سے پاک، آزاد، منصفانہ اور شفاف عدالتی نظام کی کوشش کی جانی جائے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے تمام شہریوں اور برادریوں کے لیے مساوی مفادات اور انصاف کے ساتھ نمائندگی کرنی چاہئے۔ ہم اس کے حصول اور اپنے مشترکہ مفادات کے دائرے میں پاکستان کی آنے والی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔

امریکا اور یورپی یونین کا اظہار تشویش
واضح رہے کہ برطانیہ کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے بھی پاکستان میں عام انتخابات کی شفافیت پر خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ انتخابی دھاندلی اور دخل اندازی کے الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ہی آئین و قانون کے مطابق پاکستان کی سیاست کا فیصلہ کریں گے، آئندہ انتخابات اور اسمبلی تحلیل کے حوالے سے پاکستانی حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ آئین و قانون پر عمل کریں۔

ترجمان میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ جس طرح امریکا دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے، اسی طرح امریکا پاکستان کے ساتھ بھی بہت سے معاملات میں بہتری چاہتا ہے۔

امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر بین کارڈن نے پاکستان میں عام انتخابات میں تاخیر کو افسوسناک قرار دیا اور بلوچستان میں انتخابی مہم کے دوران ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئی حکومت تشکیل پا رہی ہے اور وہ پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ، ماحولیاتی تبدیلی اور پائیدار توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

بین کارڈن نے کہا کہ وہ ایسے مواقع کی تلاش جاری رکھیں گے جہاں امریکا اور پاکستان پورے جنوبی ایشیا میں سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے اپنے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھا سکتے ہوں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے نمائندوں رو کھنہ اور الہان عمر نے بھی پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ فوج الیکشن نتائج میں دخل اندازی اور دھاندلی کر رہی ہے۔

یورپی یونین نے بھی یہی مطالبہ کیا اور یورپی مبصرین کی مجوزہ انتخابی سفارشات پر عمل درآمد پر زور دیا۔ یورپی یونین کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے پاکستان کو انسداد دہشتگردی کے چیلنج کا سامنا رہا تاہم اب پاکستان کو چاہیے کہ وہ جی ایس پی پلس کی رپورٹ میں بتائی گئی خامیوں کو دور کرنے کے لیے درکار معاشی اصلاحات پر توجہ دے۔

ووٹرز کے فیصلے کو تسلیم کرنا چاہیے، ملالہ یوسفزئی
علاوہ ازیں، پاکستانی نژاد نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ملک میں عام انتخابات کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا، ’پاکستان کو ایسے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی ضرورت ہے جن میں ووٹوں کی گنتی میں شفافیت اور نتائج کا احترام بھی ہو۔‘

انہوں نے کہا، ’میرا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ ہمیں ووٹرز کے فیصلے کو باوقار انداز میں تسلیم کرنا چاہیے، مجھے امید ہے کہ ہمارے منتخب عہدیدار، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف میں، پاکستان کے عوام کے لیے جمہوریت اور خوشحالی کو ترجیح دیں گے۔‘

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button