جہلم شہر سمیت ضلع کی چاروں تحصیلوں میں ایل پی جی گیس کی غیر قانونی ری فلنگ کا مسئلہ عوامی تشویش کا باعث بننے لگا ہے۔ مختلف مقامات پر مبینہ طور پر حفاظتی انتظامات اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گیس کی ری فلنگ کی جا رہی ہے، جس سے قریبی آبادیوں کے مکینوں کی جان و مال کو خطرات لاحق ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی گیس کی ری فلنگ کے حوالے سے شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے گیس کی ری فلنگ کا کاروبار جاری ہے، جبکہ اس امر پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ متعلقہ اداروں کی نگرانی کے باوجود ایسے مراکز کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نظر نہیں آتی۔ بعض شہریوں نے ان سرگرمیوں کو مبینہ سرپرستی میں جاری رہنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے، تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
شہریوں کے مطابق غیر محفوظ طریقے سے ایل پی جی کی ری فلنگ کسی بھی وقت آگ لگنے یا دھماکے جیسے سنگین حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ خصوصاً اندرونِ شہر اور گنجان آباد علاقوں میں قائم ایسے مراکز کے باعث آس پاس رہنے والے افراد کو اضافی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں نہ صرف کاروباری مقامات بلکہ قریبی گھروں، دکانوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایل پی جی گیس کی ری فلنگ کے کاروبار میں حفاظتی اصولوں کی پابندی اور قانونی ضوابط پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ صرف شکایات موصول ہونے پر کارروائی کرنے کے بجائے باقاعدگی سے معائنہ کریں اور ایسے تمام مراکز کی جانچ پڑتال کریں جہاں گیس کی ری فلنگ کی جا رہی ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم شہر سمیت ضلع کی چاروں تحصیلوں میں ایل پی جی کی غیر قانونی ری فلنگ کرنے والے مراکز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائے، قانونی اجازت ناموں کی تصدیق کی جائے اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت اقدامات کیے جائیں۔
عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچنے کے لیے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور کسی بڑے حادثے کا انتظار کیے بغیر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ممکن ہو سکے۔


