دینہ: عصر حاضر کے تقاضوں اور معاشرتی اصلاح میں نوجوانوں کے مؤثر کردار کو اجاگر کرنے کے لیے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کے زیرِ اہتمام دینہ کے نجی کالج میں ایک خصوصی علمی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں اساتذہ اکرام اور طالب علموں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی اور مرکزی مقرر معروف دینی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر تاج افسر (ریٹائرڈ ڈین، فیکلٹی آف اصول الدین، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد) تھے۔ اس موقع پر دینہ، نکودر، سرائے عالمگیر، سوہاوہ، بڑا گواہ اور جہلم سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور طلبہ شریک ہوئے۔
نجی کالج (فوکس کالج دینہ) کے سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، نذیر کیانی، عتیق احمد، ڈاکٹر بلال، جنید ظہور کیانی، مبشر افتخار اور کامران خورشید نے بھی خصوصی شرکت کی۔
پروفیسر ڈاکٹر تاج افسر نے اپنے جامع اور مدلل خطاب میں سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سماجی تبدیلی کے عمل میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستِ مدینہ کے قیام اور اسلام کی اشاعت میں نوجوان صحابۂ کرامؓ نے کلیدی کردار ادا کیا اور نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپیں۔
انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی حالات اور تقاضے بدلتے رہتے ہیں، اس لیے سماجی تبدیلی ایک منظم اور سائنسی عمل کے تحت ہی ممکن ہے۔ اس عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کے اسوۂ حسنہ کو سمجھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اجتماعی اور منظم جدوجہد کی جائے۔
ڈاکٹر تاج افسر نے “حلفُ الفضول” میں نبی کریم ﷺ کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نوجوانوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ مظلوموں کی حمایت، انصاف کے قیام اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے نوجوانوں کو علم و شعور میں اضافے، انتہا پسندی سے گریز، اعتدال و رواداری کے فروغ اور مدلل و باوقار اندازِ گفتگو اپنانے کی تلقین کی۔
سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں طلبہ نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا، جبکہ آخر میں دعا کے ساتھ سیمینار اختتام پذیر ہوا۔


