جہلم سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین نے نان پروٹیکٹڈ کٹیگری اور 201 یونٹ کے بعد بجلی بلز میں ہوشربا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے فوری نوٹس لینے اور عوام دشمن پالیسی کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا۔
آئیسکو صارفین نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 201 یونٹ مکمل ہوتے ہی بجلی کے بلوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ کر دیا جاتا ہے جو سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 200 یونٹ تک بل 5000 روپے آتا ہے لیکن جیسے ہی 201 یونٹ ہوتے ہیں بل 15000 روپے سے تجاوز کر جاتا ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ کھلا ظلم ہے۔
صارفین کا کہنا تھا کہ نان پروٹیکٹڈ پالیسی کے تحت چھ ماہ تک بھاری بلز دینا کسی مستقل سزا سے کم نہیں، حکومت اس عوام دشمن اقدام پر فوری نظر ثانی کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ مہنگائی کے طوفان میں بجلی کے ناجائز بلز متوسط اور نچلے طبقے کو شدید معاشی بحران میں دھکیل رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے ریٹ میں نرمی کی جائے، 201 یونٹ کی ظالمانہ حد ختم کی جائے اور نان پروٹیکٹڈ صارفین کو مستقل سزا کے نظام سے فوری نجات دی جائے تاکہ غریب عوام سکون کا سانس لے سکیں اور اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھ سکیں۔
صارفین نے واضح کیا کہ حکومت اگر ریلیف نہیں دے سکتی تو کم از کم عوام دشمن پالیسیاں ختم کرے کیونکہ ان اقدامات سے غربت اور سماجی بے چینی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔


