جہلم: محکمہ ماحولیات کے کرپٹ افسران و ملازمین نے بھٹہ خشت مالکان اور صنعتی یونٹس کے مالکان سے مک مکا کر کے انہیں ماحول آلودہ کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے، بھٹہ خشت مالکان زگ زیگ ٹیکنالوجی پر بھٹے منتقل کرنے کی بجائے بوسیدہ نظام پر چلا رہے ہیں ۔
محکمہ ماحولیات اس حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جس سے ضلع بھر میں قائم سینکڑوں بھٹہ خشت کی چمنیاں ،کریش پلانٹس مسلسل راکھ اگل رہے ہیں اور بھٹہ جات کے ارد گرد سیاہ دھویں کے بادل چھائے نظرآتے ہیں جس سے قریبی آبادیوں کے مکینوں کی زندگیاں اجیرن بن کر رہی ہیںجس کیوجہ سے مکین سانس ، دمہ ، آشوبِ چشم کے امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔
اسی طرح ملحقہ علاقوں میں موجود کریشن پلانٹس سے اڑنے والی دھول مٹی کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ما حولیاتی آلودگی میں شدید اضافے کے سبب ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہورہاہے۔
دوسری جانب صنعتی یونٹس کے کیمیکل زدہ پانی کو قریبی تالابوں میں محفوظ کئے جانے کے باعث زمینی آلودگی کے ساتھ ساتھ زمینیں بنجرہورہی ہیں ۔جس سے فصلوں کی کاشت پر نہایت منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
فیکٹریوں کے قرب وجوار میں زہریلے کیمیکل اثر انداز ہورہے ہیں جہاں رہائشی آبادیوں کا پانی بھی پینے کے لائق نہیں رہا جس میں مختلف کیمیکلز کی آمیزش کا ذائقہ آتا ہے ، شہریوں کی طرف سے بار بار محکمہ ماحولیات کو مالکان کے خلاف کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہاہے ۔ جسکے با وجود محکمہ ماحولیات کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ ماحولیات کے بعض کرپٹ افسران و ملازمین بڑھتی ماحولیاتی آلودگی کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے فیکٹریوں اور بھٹہ جات کے مالکان کے ساتھ معاملات طے کررکھے ہیں ،انہیں ماحولیاتی آلودگی کی بڑھاوا دینے کی کھلی چھٹی دیتے ہوئے مکینوں کو مہلک امراض میں مبتلا کرنے کے لائسنسن جاری کررکھے ہیں۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے اور کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔


