سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئین جمہوریت اور عدالتیں ختم ہوچکی، سپریم کورٹ کا حالیہ جو فیصلہ آیا اس سے رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے، اس وقت سیاسی سوجھ بوجھ والی قیادت راہنماؤں کی ضرورت ہے، آئین و قانون کو احترام دینے والےافراد کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔
فواد چودھری نے کہا کہ اب صرف جدوجہد کا راستہ رہ گیا ہے۔ سوات پوری فیملی مرگئی، پاک پتن اسپتال 20 بچے مر گئے، ہم سب بھولنے کے عادی ہیں، میڈیا ایک چیز کو اٹھاتا ہے پھر دوسرے دن وہ بھی بھول جاتا ہے۔
قبل ازیں سابق وفاقی وزیر فواد چوددھری کے خلاف مبینہ اراضی کرپشن کیس کی سماعت ہوئی، اینٹی کرپشن اڑھائی سال گزرنے بعد بھی چالان پیش نہ کر سکی۔
عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی ٹیم کو 17 جولائی تک چالان پیش کرنے کی وارننگ دی اور کہا کہ چالان پیش نا ہونے سے مقدمہ اڑھائی برس سے لٹکا ہوا ہے۔
مقدمہ کی سماعت انسداد رشوت ستانی عدالت کے جج خاور رشید نے کی، سابق وفاقی وزیر کی حاضری معافی کی درخواست بھی منظور کرلی گئی۔
سابق وزیر پر جہلم کی تحصیل دینہ میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو اراضی فراہمی میں اثر ورسوخ ڈالنے کا الزام ہے، فواد چودھری کے کیس میں غیر حاضری پر جاری وارنٹ گرفتاری بھی منسوخ کردیے گئے۔


