جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے علاقوں کے مکین مہنگی اشیاء خورد ونوش خرید نے پر مجبور، پیاز اور آلو کے نرخوں کو کنٹرول نہ کیا جاسکا۔
بدھ کے روز کچے آلو کی قیمت53 روپے مقرر تھی جبکہ دکاندار 70 روپے فی کلو گرام فروخت کرتے رہے، پیاز کا نرخ 175 روپے مقرر کیا گیا جبکہ دکاندار 250 روپے فی کلو گرام، ٹماٹر 100روپے فی کلو کی بجائے150 روپے کلو ،لہسن چائنہ 585روپے فی کلو کی بجائے650 روپے فی کلو تک فروخت ہو تا رہا۔
اورک تھائی520 روپے فی کلو کی بجائے600 روپے فی کلو، سبز مرچ دیسی200 روپے فی کلو کی بجائے 250 روپے فی کلو، لیموں چائنہ 100 روپے فی کلو کی بجائے150 روپے فی کلو، بیگن 115 روپے فی کلو کی بجائے 150 روپے فی کلو، گوبھی پھول 130 روپے فی کلو کی بجائے 180 روپے فی کلو، کھیرا 70 روپے کی بجائے 85 روپے، مٹر65 روپے کی بجائے85 روپے فی کلو فروخت ہوتے رہے۔
اسی طرح سیب بھی مختلف اقسام کے ہیں جو کہ سیب کالا کولو325 روپے کی بجائے450 روپے فی کلو فروخت کئے جاتے رہے، مسمی 120 روپے کی بجائے 250 روپے فی درجن، سٹابری 425 کی بجائے 650 روپے ، انار قندھاری 420 روپے کی بجائے 600 روپے کلو ، امرود 228 روپے کی بجائے 300 روپے فی کلو ، کینو 160 روپے کی بجائے 200 روپے فی درجن کے حساب سے فروخت کئے گئے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کرے۔
سبزی اور فروٹ فروشوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی ہم ادا کرتے ہیں ،حکومت طلب اور رسد کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے عوام کو در بدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں، اب بھی اگر وزیراعلیٰ پنجاب خود نوٹس لے اور افسران کو علی الصبح منڈیوں میں بولی کروانے کے احکامات جاری کرے تو قیمتوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے ۔


