جہلم: ضلع جہلم میں مہنگائی کی مسلسل بڑھتی ہوئی لہر نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے اخراجات کے باعث نہ صرف گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے عوام شدید معاشی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں بجلی، گیس اور ایندھن کے اخراجات میں اضافے کے اثرات براہِ راست بازاروں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد دکاندار اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان اپنی مرضی کے نرخوں پر فروخت کر رہے ہیں، جبکہ پرائس کنٹرول کے مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث عام صارف کو مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق آٹا، گھی، چینی، دالیں، سبزیاں، پھل، گوشت اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں، جبکہ بجلی اور گیس کے بھاری بلوں، پٹرول کے اخراجات اور دیگر یوٹیلیٹی چارجز نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل بنا دیا ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث سفید پوش اور دیہاڑی دار طبقہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور بہت سے خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات اور کم ہوتی قوتِ خرید نے لوگوں کو ذہنی پریشانی اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
شہریوں نے وفاقی اور پنجاب حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے، ناجائز منافع خوری کی روک تھام، سرکاری نرخناموں پر سختی سے عملدرآمد اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


