لڑکےکے بھیس میں لڑکیوں سے شادی کرکے انہیں بیرون ملک اسمگل کرنیوالی جہلم کی لڑکی گرفتار

جہلم/ میرپور: شادی کے بہانے لڑکیوں کی بیرون ملک انسانی سمگلنگ میں ملوث گروپ کی ملزمہ کو آزاد کشمیر کے شہر میرپور سے گرفتار کر لیا گیا ہے جس کے متعلق تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔

پولیس نے بتایا ہے کہ نرگس اقبال محمد دختر محمد سرور کو خواتین حوالات میں رکھ کر تفتیش کی جا رہی ہے۔ ملزمہ پاکستانی نژاد فرانسیسی شہری ہے اور اس کا تعلق جہلم کے علاقہ ٹاہلیانوالہ سے ہے۔ملزمہ لڑکے کا بھیس بدل کر پاکستان آتی، شادی کر کے دلہن کو بیرون ملک لے جا کر فروخت کر دیتی تھی۔

ملزمہ کے دھوکے کا شکار ہونے والی فیملی نے بھی اہم انکشافات کیے ہیں۔ بتایا گیا کہ نرگس نے شعبان کے نام سے شناخت بنا رکھی تھی، نرگس حلیہ بدل کر آزاد کشمیر آکر رشتے تلاش کرتی، صرف نکاح کرتی تھی۔ سفری کاغذات تیار کرکے دلہن کو بیرون ملک بلواتی اور فروخت کر دیتی تھی، بتایا گیا ہے کہ ملزم نرگس آزاد کشمیر آکر خود دلہا بن کر شادی کرتی تھی۔

نرگس دوبارہ اپنا شکار تلاش کرنے آزاد کشمیر پہنچی تو میرپور تھوتھال، کھاڑک کے رہائشی چوہدری محمدرمضان نے پہچان لیا۔ پولیس کو فوری طور پر شکایت درج کراکے گرفتار بھی کروا دیا تھا۔ متاثرہ فیملی کے مطابق نرگس شادی کرنے کے بعد بیرون ملک جا کر دلہن فروخت کر دیتی تھی۔

ایک متاثرہ فیملی نے بتایا کہ 2 سال قبل اپریل 2021 میں غیر ملکی لڑکی نے لڑکا بن کر رشتے کے لیے رابطہ کیا، یہ لوگ ہمارے گھر آئے اور رشتہ طے ہوا۔ کچھ عرصہ بعد بچی کی شادی ہوئی تو ہم نے اسے رخصت کر دیا۔ ملزمہ نے بچی کو طرح طرح کی تکلیفیں دینا شروع کر دیں۔

متاثرہ فیملی نے بتایا کہ بعدازاں اس نے بچی کو نامعلوم جگہ لے جا کر فروخت کرنے کی کوشش کی۔جب بچی کو حقیقت معلوم ہوئی کہ اسے فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اس نے شور شرابہ شروع کر دیا، وہاں موجود لوگوں نے ہماری بچی کی بات سنی اور مدد کرنے کی کوشش کی، بچی کو محفوظ جگہ پر لے جایا گیا۔ بچی نے ہم سے رابطہ کرکے بتایا کہ میرے ساتھ دھوکہ ہو گیا جس شخص سے شادی کی تھی دراصل وہ ایک لڑکی ہے اور مجھے فروخت کرنا چاہتی تھی۔

متاثرہ فیملی کے مطابق انہوں نے اپنے کسی ذریعے سے ملزمہ کو میر پور بلوایا اور پولیس سے گرفتار کروا دیا۔ متاثرہ فیملی کے مطابق انہوں نے پولیس کو بتایا کہ یہ دراصل ایک لڑکی ہے جو لڑکا بن کر شادیاں رچاتی ہے لہٰذا اس سے متعلق تحقیقات کی جائیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button