جہلم میں سنوکر کلبوں کی بھرمار، جگہ جگہ جرائم کی نرسریاں کھل گئیں

جہلم شہرسمیت مضافاتی علاقوں میں سنوکر کلبوں کی بھرمار، جگہ جگہ جرائم کی نرسریاں کھل گئیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پراسرار خاموشی سوالیہ نشان، سکول جانے والے بچے جوئے کی لت کا شکار ، رات12بجے تک کھلے عام جوئے اور منشیات کا بے دریغ استعمال ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر کے گلی محلوں ، چوک چوراہوں میں جگہ جگہ سنوکر کلب جوئے کے اڈوں کا روپ دھار چکے ہیں جہاں کھلے عام آوارہ ، اور سکولوںو کالجوں کے طلبہ کھیل کی آڑ میں منشیات جوئے کی لت میں مبتلا ہورہے ہیں۔ متعلقہ تھانوں کی پولیس تمام تر صورتحال سے واقف ہونے کے باوجود جوئے کے ان اڈوں کے مالکان کے خلاف کارروائیاں کرنے سے گریزاں ہیں۔

طالب علم سکولز ،کالج جانے کی بجائے سارا دن ان سنوکر اور بلیئرڈ کلبوں میں وقت گزارتے دکھائی دیتے ہیں جہاں آوارہ لڑکوں سمیت کاغذ چننے والے پٹھانوں کے بچے بھی سنوکر کلبوں میں کھیل کے نام پر جوئے اور منشیات استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

بااثر مالکان نے بلیئرڈ اور سنوکر کلبوں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کروا رکھے ہیں جو غیر متعلقہ افراد کو سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھ سے دیکھ کر فوراً محتاط ہو جاتے ہیں ، جبکہ پولیس آپریشن سے قبل متعلقہ تھانوں کے اہلکار بذریعہ ٹیلیفون مالکان کو کارروائی بابت اطلاع کر دیتے ہیں جس کیوجہ سے فرض شناس ایماندار پولیس افسران کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

شہریوں نے ڈی پی اوجہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ دفعہ144کے تحت تمام بلیئر ڈ و سنوکر کلبوں پر سکول اوقات میں اور رات 8 بجے کے بعد کھلنے والے بلیئرڈ و سنوکر کلبوں پر پابندی عائد کی جائے علاوہ ازیں 18سال سے کم عمر بچوں کے داخلے پر مکمل پابندی کا اطلاق کروایاجائے ، جبکہ جواء منشیات اور دیگر سرگرمیوں میں ملوث بلیئرڈ ، سنوکرزکلب مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں تاکہ چوری چکاری اور سٹریٹ کرائم میں کمی واقع ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button