سوہاوہ: جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں دو کم عمر لڑکی اور لڑکے سمیت 18 سالہ لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا، تھانہ سوہاوہ پولیس نے مقدمات درج کر کے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مقدمے میں 33 سالہ خاتون نے تھانہ سوہاوہ پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی 10 سالہ بیٹی کی ہمراہ سوہاوہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں جی ٹی روڈ کے قریب ایک ہوٹل میں مالی مدد کے سلسلے میں گئیں جس پر وہاں موجود اسٹاف نے مجھے مالک کے گھر جانے کا کہا۔
متاثرہ خاتون نے کہا ’میں جب ہوٹل مالک کے گھر گئی تو وہ مجھے کچھ پیسے دینے کے لیے ایک الگ کمرے میں لے گیا جہاں اس نے منع کرنے کے باوجود میرا ریپ کیا، اس دوران میری بچی کو دوسرے کمرے میں رکھا گیا۔ پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
دوسرے کیس میں ایک خاتون نے سوہاوہ پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ ڈسٹرک ہیڈکوارٹرز ہسپتال گئی تھی جہاں سے واپسی پر اس نے دیکھا کہ اس کے 14 سالہ بیٹے کی جیب میں ایک ہزار روپے کا نوٹ موجود ہے۔
خاتون نے بتایا ’میرے پوچھنے پر بیٹے نے بتایا کہ ایک شخص مجھے ہسپتال کے قریبی جگہ پر اپنے گھر لے گیا جہاں اس نے میرا ریپ کیا اور پھر مجھے ایک ہزار روپے بھی دیے، پولیس نے دفعہ 376-تھری اور 376 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
یاد رہے کہ دونوں کیسز میں پولیس کی جانب سے اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔
سوہاوہ میں رپورٹ ہونے والے تیسرے کیس کی رپورٹ کے مطابق ایک مقامی پولٹری فارم کے ملازم نے 18 سالہ لڑکی کا ریپ کرنے کی کوشش کی۔
تھانہ سوہاوہ پولیس نے دفعہ 377-بی کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، ایس ایچ او کے مطابق مشتبہ شخص ملتان کا رہائشی ہے جسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔



جہلم میں ایسے بڑھتے واقعات جنسی درندگی کی علامت ہیں ایسے ملزمان کو سخت سزا دے کر حکومت کو قانون کی رٹ قائم کرنی چائیے۔۔۔ایسے لوگ معا شرے کے لیئے ناسور ہیں۔۔