کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اونٹاریو صوبے کے شہر مسی ساگا میں مسجد پر حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس کی بطور نفرت انگیز جرم تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے گروپ اسے بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے طور پر دیکھتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ کسی نے اتوار کو مسی ساگا کی مسجد میں دو بڑے پتھر پھینکے گئے۔
سی بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
سماجی رابطے کے ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کینیڈین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں اسلاموفوبیا کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
Places of worship should be safe spaces for community members to gather. The attack against a Mississauga mosque earlier this week – on the National Day of Remembrance of the Quebec City Mosque Attack and Action Against Islamophobia – is cowardly, disturbing, and unacceptable. I…
— Justin Trudeau (@JustinTrudeau) February 1, 2024
انہوں نے کہا کہ کیوبیک شہر کی مسجد پر حملہ اور اسلاموفوبیا کے خلاف ایکشن کے قومی دن کے موقع پر رواں ہفتے کے اوائل میں مسی ساگا کی مسجد پر حملہ بزدلانہ، پریشان کن اور ناقابل قبول ہے، میں اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز نے بتایا کہ یہ حملہ ملک بھر میں اسلاموفوبیا کے خطرناک بڑھتے رجحان کا حصہ ہے۔
واضح رہے کہ نومبر میں ٹورینٹو حکام نے بتایا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جارحیت شروع ہونے کے بعد سے کینیڈا کے سب سے بڑے شہر میں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رائٹس گروپ نے نوٹ کیا کہ 7 اکتوبر کے بعد سے دنیا بھر میں یہودیوں کی مخالفت اور اسلاموفوبیا بڑھا ہے، جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کردیا تھا، جس کے نتیجے میں 1200 اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔
غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں 27 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 23 لاکھ افراد بے گھر ہیں۔


