جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر آمادگی کے باوجود اسرائیل کی بمباری، 90 فلسطینی شہید

غزہ پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں، صیہونی افواج نے خان یونس میں کیے گئے تازہ حملے میں ناصر اسپتال شعبہ اطفال کو نشانہ بنایا۔

وزارت صحت غزہ کے مطابق جبالیہ کیمپ پر گزشتہ روز اسرائیلی حملے میں نوے فلسطینی شہید ہوئے۔

اسرائیلی افواج نے صابرہ، شیخ رضوان اور ریمال پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں 54 شہری شہید ہوئے اور شہداء کی تعداد 19 ہزار سے تجاوز کرگئی۔

مغربی کنارے کے علاقے طولگرم میں اسرائیلی فوج نے آپریشن کیا اور پانچ فلسطینیوں کو شہید کردیا۔

کمال عدوان اسپتال کے غیر فعال ہونے سے آٹھ مریض دم توڑ گئے، شہداء میں ایک نو سال کا بچہ کا بھی شامل ہے۔

’ایسی تباہی نہیں دیکھی‘

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین کے سربراہ فلپ لازارینی نے اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی المیہ جیسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

فلپہ لازارینی نے کہا کہ یوکرین جنگ میں جتنے شہری مارے گئے اس سے زیادہ غزہ میں بچے اور خواتین چالیس دن میں شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں غزہ کا ساٹھ فیصد سے زیادہ انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے اور نوے فیصد آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔

حماس کی جوابی کارروائی

دوسری جانب حماس کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، حماس نے متعدد اسرائیلی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کردیں۔

جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور اختلاف

ایک طرف دونوں فریقین کے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں تو دوسری جانب اسرائیل اور حماس جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔

مصری حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات پر اختلاف باقی ہے۔ حماس کا رہا کیے جانے والے یرغمالیوں کی لسٹ یکطرفہ بنانے پر اسرار ہے۔

ترجمان حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج پہلے سے متعین حدوں سے پیچھے ہٹے۔

استعفے کا مطالبہ

ادھر اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔ یائر لپید کہتے ہیں نیتن یاہو وزیراعظم نہیں رہ سکتے وہ عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔

پوپ کی مذمت

مسیحوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے غزہ پر حملے کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں دو مسیحی خواتین کے قتل کی شدید مذمت کی۔

پوپ فرانسس نے کہا کہ غزہ سے مسلسل درد ناک خبریں آ رہی ہیں، شہروں کو گولیوں اور بموں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے دنیا سے امن کی دعا کی اپیل بھی کی۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button