پڑی درویزہ: راولپنڈی ڈویژن کے تین اضلاع، جہلم، چکوال اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی میں عوام کا اعتماد ایک مرتبہ پھر سے بحال ہونے لگا ہے اور انٹرمیڈیٹ کلاسز میں داخلے کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری ہے۔
یہ کالج 42 سال قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالمجید ملک مرحوم کی کوششوں سے قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے طلبہ کو ان کے گھر کے قریب اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کرنا تھا۔ ابتداء میں یہ ادارہ ’’گورنمنٹ انٹر سائنس کالج پیر پھلاہی‘‘ کے نام سے قائم ہوا، اور پہلے ہی عشرے میں تعلیم کے شعبے میں ایک انقلابی کردار ادا کیا۔
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ کالج زوال پذیری کا شکار رہا، مگر اب حالات ایک مرتبہ پھر تبدیل ہو رہے ہیں۔ "صدا وقت ایک سا نہیں رہتا” کے مصداق، انہی ادارے سے فارغ التحصیل طالب علم، موجودہ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمٰن کی قیادت میں کالج نے نئی بلندیوں کی طرف قدم بڑھا دیا ہے۔
گزشتہ برس گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی، راولپنڈی ڈویژن کے 111 سرکاری کالجوں میں داخلوں کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہا، جس پر پرنسپل کو ایوارڈ بھی دیا گیا۔ رواں سال 2025-27ء کے تعلیمی سیشن کے لیے پرنسپل ڈاکٹر عزیز الرحمن اور ان کے محنتی تدریسی عملے نے اردگرد کے کم از کم 20 سرکاری ہائی اسکولوں کا دورہ کیا اور داخلہ مہم کو کامیاب بنایا۔
اس وقت کالج میں داخلوں کا سلسلہ جاری ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ طلبہ اور والدین کا اعتماد اس ادارے پر مزید مستحکم ہو رہا ہے۔ اس کامیاب رجحان سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ تعلیمی سیشن میں داخلوں کی تعداد پچھلے تمام ریکارڈز توڑ دے گی اور گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج پیر پھلاہی ایک بار پھر اپنی سابقہ تعلیمی شان و شوکت حاصل کر لے گا۔


