امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اگر ساری امت ایک طرف ہو اور اہلِ بدر کے کسی ایک صحابیؓ کی رائے دوسری طرف ہو تو اہلِ بدر کی رائے کو مقدم سمجھا جائے گا۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ بدر کو ایک منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل ہے، کیونکہ یہ وہ مبارک جماعت ہے جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ میدانِ بدر میں پورا اسلام موجود تھا۔ رہتی دنیا تک یہ واحد جماعت ہے جسے یہ اعزاز حاصل رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے پر اگر امت کا اتفاق ہو اور کسی بدری صحابیؓ کی رائے اس کے برعکس ہو تو اس صحابیؓ کی رائے کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر اگر کفر طاقتور نظر آئے تب بھی اس کا نظریہ کبھی غالب نہیں ہو سکتا۔ یوم بدر کو یوم الفرقان قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حق و باطل کے درمیان واضح فرق کا دن ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے سوال اٹھایا کہ قرآن کریم میں مسلمانوں کو حکمرانی کا وعدہ دیا گیا ہے، مگر کیا ہم اس کے مطابق اپنے اعمال درست کر رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ آج اگر مسلمان اپنے اعمال کا جائزہ لیں تو بہتری کی گنجائش موجود ہے، اس لیے شکایت کے بجائے اصلاح کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طرزِ زندگی کو اپنانے میں ہی کامیابی اور فتح مضمر ہے۔ انہوں نے واقعۂ بدر کے تناظر میں بتایا کہ اس وقت دو گروہ تھے، ایک تجارتی قافلہ اور دوسرا میدانِ جنگ میں آنے والا لشکر، اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ انہی کے حق میں فرمایا جو حق پر قائم تھے۔
اجتماع کے موقع پر نئے آنے والے مرد و خواتین کی ظاہری بیعت بھی لی گئی اور انہیں ہدایت دی گئی کہ اپنے معمولات کو مرکزی رہنمائی کے مطابق ترتیب دیں اور صبح و شام قلبی ذکر کو معمول بنائیں۔
اجتماع کے اختتام پر امیر عبدالقدیر اعوان نے ملکی سلامتی، استحکام اور بقا کے لیے خصوصی اجتماعی دعا بھی کرائی۔


