جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں اینٹوں اور دیگر تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے شہریوں، خصوصاً غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے اپنا ذاتی گھر تعمیر کرنا ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی سامان کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ غریب کی غربت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، جبکہ بنیادی جزو سمجھی جانے والی اینٹیں بھی نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔
شہریوں کے مطابق اپنا ذاتی مکان ہر فرد کی بنیادی خواہش ہوتی ہے، مگر موجودہ حالات میں ضلع جہلم میں بھٹہ کی پختہ اینٹیں مزدور اور کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ سے کوسوں دور ہو چکی ہیں۔ اینٹوں کی خریداری ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، کیونکہ اکثر بھٹہ خشت مالکان اینٹوں کے نرخ اور فراہمی کے حوالے سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ اگر کسی صورت رضامندی ہو جائے تو جگہ جگہ پولیس ناکوں کے باعث ٹریکٹر ٹرالی مالکان اینٹیں پہنچانے سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔
اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوڈر رکشہ مالکان من مانی کرایہ وصول کر رہے ہیں، جس سے اینٹوں کی ترسیل مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کرایوں میں بے جا اضافے نے تعمیراتی لاگت کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے اور چھوٹے پیمانے پر گھر بنانے والے افراد شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اینٹوں اور دیگر تعمیراتی سامان کے سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ غریب اور سفید پوش طبقہ بھی اپنا آشیانہ تعمیر کرنے کے قابل ہو سکے۔


