پنڈدادنخان : جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے مغربی سرے پر واقع قصبہ کندوال میں 40 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والی واٹر سپلائی سکیم ابتدائی مراحل میں ہی ناکامی کا شکار ہو گئی۔ 15 ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل اس علاقے کے بیشتر مکین عیدالاضحیٰ کے تینوں روز پانی سے محروم رہے، جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیم کا افتتاح سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے دور میں ہوا تھا اور اس پر 40 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی۔ تاہم پانی کی وافر فراہمی کے باوجود آج بھی کندوال کے مغربی محلے، گورنمنٹ ہائی سکول کے اطراف اور بس اسٹاپ کے قریبی علاقے بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ مشرقی آبادی کو 24 گھنٹے مسلسل پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جہاں نہ صرف گھروں میں پانی دستیاب ہے بلکہ نالیوں اور گلیوں میں بھی بہتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے برعکس مغربی علاقے مسلسل 12 سے 20 دنوں تک پانی کی بوند بوند کو ترستے رہے۔
ذرائع کے مطابق 10 انچ کی مین لائن سے آنے والا پانی دیہات کی پرانی پائپ لائنوں کے دباؤ کو برداشت نہیں کر پا رہا، جس کے باعث تقریباً 5 انچ پانی کو برساتی نالے نیلا واہن میں خارج کیا جا رہا ہے۔ پائپ لیکیج کی بھی کئی شکایات موصول ہوئیں، جس سے قیمتی پانی ضائع ہو رہا ہے۔
شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ واٹر سپلائی اسکیم میں مالی بدعنوانیوں کا خدشہ ہے۔ پانی کھولنے والے وال مین خود ہی نظام چلا رہے ہیں اور بل بھی خود اکٹھے کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اہلکار 2 سے 2.5 لاکھ روپے کی رقوم خود رکھے ہوئے ہیں، جب کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے مالی حساب کتاب کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
حلقے کے ایم پی اے برگیڈیئر (ر) مشتاق للِہ نے مسئلہ پنجاب اسمبلی میں اٹھایا، مگر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران نے تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ میڈیا کی جانب سے رابطہ کرنے پر متعلقہ افسران کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
عوامی حلقے اس سکیم کے مکمل آڈٹ اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری ایکشن نہ لیا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
عوام نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور اسسٹنٹ کمشنر پنڈدادنخان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موقع پر پہنچ کر پانی کی منصفانہ تقسیم، کرپشن اور تکنیکی خامیوں کا جائزہ لیں اور اس میگا پراجیکٹ کو ناکامی سے بچایا جائے۔


