جہلم میں جی ٹی روڈ کے اطراف سروس روڈ پر بس سٹاپس اور با لخصوص مقامی افراد کی گاڑیوں موٹر سائیکلوں کیلئے تعمیر کئے گئے سروس روڈز پرچنگ چی رکشاؤں، دکانداروں اور ریڑھی بانوں کے غیر قانونی قبضے، دکانداروں نے این ایچ اے اور میونسپل کمیٹی کی سرپرستی میں تجاوزات قائم کر لیں۔ سروس روڈ استعمال کرنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا، بااثر رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ ریڑھی بانوں ،لوڈر رکشہ ڈرائیوروں کی کثیر تعداد نے سروس روڈ پر اپنی اجارہ داری قائم کر لی۔
تفصیلات کے مطابق جادہ جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف این ایچ اے نے بین الاضلاعی مسافر گاڑیوں کو کھڑا کرنے سواریاں اتارنے اور بٹھانے کے لئے سروس روڈ تعمیر کی اور مقامی افراد کی سہولت کے لئے جی ٹی روڈ سے ملحقہ جگہ پر سروس روڈ تعمیر کی گئی تاکہ مقامی افراد جی ٹی روڈ استعمال کرنے کی بجائے سروس روڈ استعمال کریں تاکہ حادثات میں کمی واقع ہو سکے۔
اس کے برعکس رکشہ ڈرائیوروں اور سبزی و فروٹ فروخت کرنے والے ریڑھی بانوں نے سروس روڈ پر رکشہ ا سٹینڈ قائم کرلئے ہیں جبکہ دکانداروں نے دکانوں کا سامان اور ہوٹلوں ، ورکشاپس مالکان نے اپنا اپنا سامان سروس روڈ پر سجا کر سروس روڈ استعمال کرنے والے چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لئے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں جبکہ لاہور اور راولپنڈی سے آنے والی گاڑیاں بھی سروس روڈ پر تجاوزات قائم ہونے کیوجہ سے جی ٹی روڈ پر گاڑیاں کھڑی کرکے سواریاں اتارتے اور بٹھاتے نظرآتے ہیں۔
مقامی افراد نے آئی جی موٹر وے پولیس، ارباب اختیار این ایچ اے سے مطالبہ کیا ہے کہ سروس روڈ پر قائم ہونے والی تجاوزات کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ کروڑوں روپے سے تعمیر ہونے والی سروس روڈ سے مقامی افراد مستفید ہو سکیں اور شہریوں کی پریشانی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔


