جہلم: ضلعی انتظامیہ اینٹوں کے سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کروانے میں مکمل ناکام، مہنگے داموں پر بھی اینٹیں ملنا مشکل ہو گیا۔
ضلع بھر میں سرکاری ریٹ 8500 روپے فی ہزار اینٹ کامقرر ہے اس ریٹ پر سوئم اینٹ بھی دستیاب نہیں وہ بھی 10 ہزار روپے فی ہزار میں فروخت کی جارہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کروانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ بھٹہ خشت مالکان نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے، ہر بھٹے کا ریٹ الگ اور سائز میں بھی فرق اور پکائی میں بھی فرق ہے جو اول اینٹ کا ریٹ 8500 روپے فی ہزارمقررکیا گیا ہے لیکن بھٹہ خشت مالکان حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر اینٹیں فروخت کرنے سے مکمل انکاری ہے۔
اس وقت ضلع بھر کے بھٹہ خشت مالکان 14/16 ہزار فی ہزار اینٹیں فروخت کر رہئے ہیں ،اگر کوئی شہری حکومت کے مقرر کردہ نرخوں کی بابت بات کریں تو مالکان اینٹیں فروخت کرنے سے صاف انکار کر دیتے ہیں، قابل ذکر 14/16 ہزار روپے میں فروخت ہونے والی اینٹوں میں بھی دوئم اینٹ شامل ہوتی ہے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) سمیع اللہ فاروق سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں موجود بھٹہ خشت مالکان کو سرکاری نرخوں پر اینٹیں فروخت کرنے کا پابند بنایا جائے سرکاری نرخوں سے زائد وصولی کرنے والے اور زیگ زیگ ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے والے مالکان کے خلاف قانونی کارروائیاں کی جائیں تاکہ مہنگائی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔


