کیا انڈے کی خریداری میں سائز بھی اہمیت رکھتا ہے؟

سردی ہو یا گرمی انڈے کی طلب ہمیشہ مارکیٹ میں رہتی ہے۔ ویسے انڈا مل تو آسانی سے جاتا ہے لیکن بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے لوگ ہول سیل مارکیٹ کا رُخ کرتے ہیں۔

انڈا ہر عمر اور ہر طبقہ میں رغبت سے کھایا جاتا ہے لیکن مہنگائی کی وجہ سے انڈے کے ریٹ پر اوپر چلے گئے ہیں۔

دس سے بارہ روپے میں ملنے والا انڈا اب 30 روپے تک فروخت ہورہا ہے۔ اسی لئے شہری رعایتی دام میں انڈوں کی خریداری کیلئے ہول سیل مارکیٹوں کا رُخ کرتے ہیں۔

شہری کہتے ہیں کہ اچھی صحت کیلئے انڈا روزانہ کھایا جاتا ہے، لیکن آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی نے انڈے کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ انڈوں کی خریداری کیلئے ہول سیل مارکیٹ کا رُخ کرنے کا مقصد یہی ہے کہ کچھ رعایت میں انڈے خرید سکیں۔

دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ انڈے کی خریداری میں اس کا سائز اہمیت رکھتا ہے۔ چھوٹا انڈا کم قیمت پر جبکہ بڑا نڈا زیادہ قیمت پر فروخت ہورہا ہے۔

دکاندار کہتے ہیں کہ ہول سیل مارکیٹ کے موجودہ ریٹ کے مطابق چھوٹا انڈا 320 اور اس سے اوپر 340 جبکہ ڈبل زردی کا بڑا انڈا 450 روپے فی درجن میں فروخت ہورہا ہے۔

اگر دیسی انڈے کی بات کی جائے تو دکاندار کہتے ہیں کہ یہ بھی سائز کے حساب سے 480 اور 580 روپے فی درجن میں فروخت ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button