جہلم / سرائے عالمگیر: ملک احمد خان نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت جمہوری اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے اور ایک فسطائی نظام مسلط کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صرف فارم 47 پر کھڑی ہے، عوامی مینڈیٹ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے سرائے عالمگیر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ آج سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں ایک منظم تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پنجاب کا 5355 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، لیکن اس بجٹ نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، مہنگائی اور ٹیکسوں نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اپوزیشن کے 26 ارکان کو صرف احتجاج کرنے پر رکنیت سے معطل کر دیا گیا ہے، جو کہ جمہوری روایات کے سراسر منافی ہے۔
ملک احمد خان نے بتایا کہ لاہور میں علی امین گنڈا پور کی قیادت میں ایک اہم تحریکی اجلاس منعقد ہوگا، جس کے بعد باقاعدہ طور پر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ "عمران خان کے بیٹے، خان صاحب سے ملاقات کے لیے آ رہے ہیں، کوئی اُن کو ہاتھ لگا کر تو دکھائے۔” اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کارکنان کی پکڑ دھکڑ پچھلے دو سال سے جاری ہے، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا، ہمارا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔
انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں تحریک کا حصہ بنیں اور آئینی و جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔


