جہلم: تجاوزات کی بھرمار نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنادیں۔ شہر کے چوک چوراہوں تجارتی مراکز اور بازاروں سے خواتین اور بچوں کا گزرنا محال ہو کر رہ گیا۔ رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیب کتروں کی موجیں، شہریوں کی جیبوں پر بھکاری خواتین ہاتھ صاف کرنے میں مصروف، خواتین اور معمر شہریوں کیلئے عید کی خریداری کرنامحال ہو چکی ہے۔
شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کا عملہ تہ بازاری قوانین پر عملدرآمد کرنے سے گریزاں، میونسپل کمیٹی کا شعبہ انکروچمنٹ تہہ بازاری کی کارروائیاں فوٹو سیشن تک محدود کرلیں۔ در حقیقت تجاوزات کے خاتمے کی غرض سے انسدادِ تجاوزات عملہ فرضی کارروائیاں کرکے سب اچھا ہے کی رپورٹس بھجوا دیتا ہے ۔
شہری بدستور تجاوزات کے باعث آمد ورفت میں دشواریوں کا شکار ، مین بازار سمیت ملحقہ بازاروں میں پیدل چلنا محال ہو چکا ہے ، تجاوزات کی بھر مار کے باعث شہر کے بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں جبکہ مین بازار کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے ۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے ڈپٹی کمشنر، ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی سے شہر میں قائم ہونے والی تجاوزات کے خاتمے اور تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیاہے۔


