جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں قائم متعدد ہوٹلز پر ناقص صفائی، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور مضرِ صحت کھانوں کی فروخت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے باعث شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں اور جی ٹی روڈ پر قائم ہوٹلز میں صفائی ستھرائی کے انتہائی ناقص انتظامات دیکھنے میں آ رہے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی خاموشی عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
بیشتر ہوٹل مالکان منافع کی دوڑ میں معیارِ خوراک اور حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں کو یکسر نظر انداز کر رہے ہیں۔ ہوٹلز میں کام کرنے والا عملہ گندے کپڑوں میں ملبوس، ناخنوں میں میل، اور صفائی کے اصولوں کے برعکس کام کرتا دکھائی دیتا ہے، جو کھانے پینے کی اشیاء کو براہِ راست آلودہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ان ہوٹلز میں نہ صرف مضرِ صحت کھانے فروخت کیے جا رہے ہیں بلکہ مناسب نکاسیٔ آب کا انتظام نہ ہونے کے باعث ہوٹلوں میں جمع ہونے والا کچرا سیوریج سسٹم کو بھی متاثر کر رہا ہے، جس سے گندگی، بدبو اور مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ کئی ہوٹلز کے واش رومز کی حالت بھی نہایت ناگفتہ بہ بتائی جا رہی ہے، جو حفظانِ صحت کے تمام اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ان ہوٹلز کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو فوڈ پوائزننگ، معدے اور دیگر موذی امراض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
شہریوں نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ضلع بھر میں ہوٹلز کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے، صفائی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور مضرِ صحت کھانوں کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


