دینہ/ جہلم: ضلعی انتظامیہ نے تحصیل دینہ اور جہلم میں تین بڑی ہاؤسنگ اسکیموں کو سیل کر دیا، جس کے نتیجے میں مقامی اور اوورسیز پاکستانی سرمایہ کار شدید پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔
سیل کی جانے والی اسکیموں میں سٹی ہاؤسنگ اسکیم (موضع ڈھوک منور، لنگر پور، موہال اور مالدیو)، مڈ ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم (اضافی ایریا موضع بھٹیال، کالووال، ہرل، ڈھوک اعوان) اور پرل گلوبل ہاؤسنگ اسکیم (موضع تین پورہ، نکی اور جگیسی) شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان اسکیموں کے خلاف کافی عرصے سے شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ یہ منصوبے غیر قانونی طور پر فروخت کیے جا رہے ہیں اور ریگولیٹری اداروں سے مناسب منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ انتظامیہ نے غیر قانونی تجاوزات اور دیگر بے ضابطگیوں کے باعث یہ کارروائی عوام کے مفاد میں کی، تاکہ شہریوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
ہاؤسنگ سوسائٹیز کے سیل ہونے کی خبر نے ہزاروں مقامی شہریوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جنہوں نے ان اسکیموں میں اپنی جمع پونجی لگا رکھی تھی۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی اور اب وہ اپنی رقم کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
متاثرہ خریداروں نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ ان کی سرمایہ کاری کو محفوظ بنایا جائے۔ اوورسیز پاکستانیوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وطن میں سرمایہ کاری کر کے ترقی میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، لیکن ایسی کارروائیوں سے ان کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ شہریوں کو غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا تھا اور یہ قدم عوامی مفاد میں اٹھایا گیا ہے۔ انتظامیہ نے مزید کہا کہ جن اسکیموں نے قانونی تقاضے پورے کر لیے ہیں یا جو ضابطے کی کاروائی مکمل کر لیں گی، ان کے حوالے سے نظرثانی کی جا سکتی ہے۔



السلام علیکم خانیوال میں ابراہیم سٹی کی انتظامیہ نے ابراہیم سٹی میں رہنے والوں سے سی ٹی چارجز کی مدد میں 150 روپے پر مر لہ پر منت لینے کے باوجود کوئی نہیں دی جا رہی ہے اور لوگوں کو رجسٹر ی وانتقا ل بھی نہیں دے رہیں ہیں اور فا ئیل ٹر ا نسفر کر کہ حکومت کا ریونیو ہڑپ کر رہے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جا نے ضرور ت ہے