جہلم: انجمن تاجران نیا بازار جہلم کا اہم اجلاس گزشتہ روز ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صدر انجمن تاجران نیا بازار ناہید خان نے کی۔
اجلاس میں تاجروں کو درپیش کاروباری مسائل، بالخصوص بازار کے داخلی راستوں پر حکومت کی جانب سے نصب کیے گئے گیٹس اور ٹریفک پولیس کی ناکہ بندی کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں شریک تاجر رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے کاروباری طبقے پر مختلف مدات میں ٹیکسز عائد کیے جا رہے ہیں، جنہیں تاجر برادری پہلے ہی مشکل حالات میں برداشت کر رہی ہے، لیکن اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ تاجروں کے لیے اپنے کاروبار تک رسائی بھی مشکل بنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بازار کے داخلی راستوں پر گیٹس کی تنصیب اور ٹریفک پولیس کی ناکہ بندی کے باعث دکانوں تک پہنچنے میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بھاری ٹیکسز کے باعث پہلے ہی کاروبار کرنا مشکل ہو چکا ہے، ایسے میں بازار کے راستوں پر پابندیاں عائد کرنا تاجروں پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف دکاندار متاثر ہو رہے ہیں بلکہ بازار میں خریداری کے لیے آنے والے صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تاجروں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ بازار کے راستوں پر نصب گیٹس اور ٹریفک پولیس کی ناکہ بندی کے مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تاجروں و خریداروں کو بازار تک آسان رسائی فراہم کی جائے، تاکہ کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہ سکیں۔
اجلاس میں انجمن تاجران نیا بازار کی نئی صدارت کے انتخاب کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ اس سلسلے میں باضابطہ اعلان کیا گیا کہ موجودہ صدر ناہید خان کی مدتِ صدارت مکمل ہو چکی ہے، لہٰذا نیا بازار ایسوسی ایشن کے متفقہ فیصلے کے مطابق نئے صدر کے انتخاب کے لیے 7 نومبر 2026ء بروز ہفتہ باقاعدہ انتخابات منعقد کروائے جائیں گے۔
اعلان کے مطابق صدارت کے امیدوار بننے کے خواہش مند تاجر 5 نومبر 2026ء بروز جمعرات شام 6 بجے تک اپنے نام الیکشن کمیٹی کے کسی بھی رکن کے پاس جمع کروا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیٹی میں حاجی بشیر احمد، عارف محمود، اظہر رضا اور احمد شامل ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر تاجروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نیا بازار کے کاروباری مسائل کے حل، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور تاجر برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔


