جہلم میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا دائرہ کار شہر سے نکل کر مضافاتی علاقوں تک پھیلنے لگا

جہلم: غیر قا نونی ہا ؤسنگ سکیموں کا دائرہ کار شہر سے نکل کرمضافاتی علاقوں تک پھیلنا شروع ہو گیا، غیر قا نونی ہا ؤسنگ کا لونیوں کی بھر مار ، بااثر مالکان سادہ لوح افراد کو لوٹنے میں مصروف، انتظامیہ متعدد کا لونیوں کو غیر قانونی قرار دینے کے باوجود سر بمہر کرنے اور تشہیر کرنے سے گریزاں ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اورگردونواح میں پہلے سے ہی غیر قا نونی اور غیر منظور شدہ ہا ؤسنگ کا لو نیوں کی بھرمار ہو چکی ہے، ان ہا ؤسنگ سکیموں کے مالکان عوام کو سنہرے خواب دکھا کر ان کی جمع پونجی لوٹنے میں مصروف ہیں، اب ان ہا ؤسنگ سکیموں کا دائرہ کار بڑھ کرمضافاتی علاقوں تک پہنچ چکاہے، دن بدن ہا ؤسنگ کا لونیوں اور ٹاؤنز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔

شہر سے ملحقہ علاقوں میں بھی غیر قانو نی اور غیر منظور شدہ سکیموں کے جراثیم تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع ہو چکے ہیں۔بااثر مالکان ماہانہ اقساط کی آڑ میں سادہ لوح غریب محنت کشوں سمیت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ویب سائٹس پر ہاؤسنگ کالونیوں کے داخلی گیٹ اور جعلی گھروں کی پرکشش تصویریں اپ لوڈ کر کے ہزاروں رو پے مرلہ والی جگہ لا کھوں رو پے فی مرلہ کے حساب سے سادہ لوح شہریوں کو ڈویلپمنٹ کے سنہری خواب دکھا کر فروخت کر رہے ہیں۔

ان غیر قا نونی کا لونیوں کا نہ تو میونسپل کمیٹیوں، ضلع کونسل سے نقشے منظور ہیں اور نہ ہی مالکان نے میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسلوں سے منظوری کے لئے رجوع کیا ہے، جس کی وجہ سے ہاؤسنگ کالونیوں میں جگہ خریدنے والے درجنوں افراد ذہنی پریشانی میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ بغیر نقشہ منظور ی تعمیرات نہیں کر سکتے۔

متاثرین نے بتا یا کہ میونسپل کمیٹیاں اور ضلع کونسلز غیر قا نونی کا لونیاں بننے ہی کیوں دیتے ہیں، اگر یہ کالونیاں میونسپل کمیٹیوںکی ملی بھگت سے تیار نہیں ہو رہیں تومیونسپل کمیٹیوں کی انتظامیہ بااثر مالکان کے خلاف آپریشن شروع کریں اور وہاں پر موجود سامان کو سرکاری تحویل میں لیکر نیلام کیا جائے تاکہ سادہ لوح شہری نوسرباز افراد کی لوٹ مار سے محفوظ رہ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button