جہلم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کے بعد جہلم، سوہاوہ اور پنڈدادن خان میں ردعمل سامنے آیا، جہاں فیصلے کی حمایت کرنے والے افراد نے مٹھائیاں تقسیم کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا، جبکہ پنڈدادن خان میں گورنر راج کی حمایت میں ریلی بھی نکالی گئی۔ اس موقع پر شرکاء نے وفاقی حکومت کے فیصلے کو ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق سوہاوہ میں سابق رکن صوبائی اسمبلی راجہ اویس خالد کی ٹیم کی جانب سے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر شرکاء نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس وقت امن، استحکام اور مؤثر حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور بدامنی کے اثرات کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان سے ملک کی معیشت، کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور امن و امان کے قیام کے لیے مربوط حکمت عملی اہمیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب جہلم میں حسن زیادتی کی قیادت میں مٹھائیاں تقسیم کرنے کی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس موقع پر شرکاء نے وفاقی حکومت کے اقدام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک میں امن و امان کی بہتری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ عوام کی اولین ترجیح امن، تحفظ اور معمولاتِ زندگی کی بحالی ہونی چاہیے، کیونکہ بدامنی کی صورتحال میں سب سے زیادہ مشکلات عام شہریوں، تاجروں، طلبہ اور محنت کش طبقے کو برداشت کرنا پڑتی ہیں۔
شرکاء نے مزید کہا کہ ملک میں امن و امان کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی حکومتی اقدام کے نتائج کا جائزہ امن و استحکام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے تناظر میں لیا جانا چاہیے۔
ادھر سابق تحصیل ناظم چوہدری عابد اشرف جوتانہ کی قیادت میں جوتانہ ہاؤس پنڈدادن خان سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی حمایت میں ریلی نکالی گئی، جس میں علاقے بھر سے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی مختلف سرگرمیوں کے بعد نوازش شہید چوک پہنچی، جہاں اس نے جلسے کی شکل اختیار کر لی۔
جلسے کے شرکاء نے افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ’’افواجِ پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے اور ملکی سلامتی کے لیے پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر شرکاء نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا۔


