خراج تحسین /داد تحسین (آخری قسط)

اب جب کہ گزشتہ 16روز سے معزز قارئین زیر نظر تاریخی سطور کی قسط اول سے کچھ تو لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن چند ایک نئی روشنی سے متاثر کی دماغ سوزی کا باعث بھی شاید بن رہی ہوتو اس لیے لازم ہے کہ محترم جناب فرخ مرغوب صدیقی اور منظور احمد رضی جیسے اعلیٰ تحریر نگاروں کو خراج تحسین کے ساتھ ساتھ اب تاریخی محنت کش رہنما سپوت جہلم مرزا محمد ابراہیم کے متعلق دوسری قسط پیش کی جائے تا کہ پہلی قسط کی سطور سے مسحور ہونے والے قارئین کی تشنگی پوری ہو سکے توبیان بالا مصرعہ سے شروع ہونے والی طویل نظم تھی جو پوری دستیاب نہیں ہو سکی۔ اُس وقت کے نوجوان ظالموں کے مخالف جذبات سے سرشار تھے ۔

علاقہ کی معاشی معاشرتی حالت کے مد نظر اسی طرح کے جذبات فروغ پا سکتے تھے تاہم مرزا محمد ابراہیم ایک غیر طبقاتی اور سوشلسٹ نظام کے لئے عمر بھر جہد مسلسل میں مصروف رہے ضلع جہلم کی دھرتی پر آنکھ کھولنے والے وہ بر صغیر میں محنت کش طبقہ کے لئے ایک عظیم انسان ثابت ہوئے انہوں نے ہمیشہ رنگ نسل مذہب ، زبان، اور ملکی شناخت سے بالا تر ہو کر عالمی انسانیت کے لئے تمام جد وجہد کی ۔

ضلع جہلم کی تاریخ میں ان کا نام پروفیسر فتح محمد ملک ، پروفیسر یوسف حسن ، تنویر سپرا ( انقلابی شاعر) ، نصیر قوی ،جوگی جہلمی، باغ حسین کمال ، دینہ سے شاعر عبدالقادر قادری ، سلطاں اڈرانہ کے راجہ میر زمان ، دینہ ہی سے مورخ جہلم انجم سلطان شہباز اور سوہاوہ سے پوٹھو ہاری شاعر زمان اختر(شاگرد رشید مرزا محمد ابراہیم )،کے ناموں سے پہلے آتا ہے ۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ اس سال عالی جناب فخر محنت کشاں بر صغیر خصوصاًہندوستان ریلوے لیبر یونین مرزا محمد ابراہیم کی 24ویںبرسی کے موقع پرسابق ممبر قومی اسمبلی حلقہ این اے 66 جہلم 1چوہدری فخر الطاف نے خصوصی طور مرحوم کے مزار پر حاضری دی اور شاندار الفاظ میں مرزا محمد ابراہیم کی محنت کش عوام کے لیے کی جانے والے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ۔سوشل میڈیا پر مذکورہ حاضری کو خصوصی طور پیش کیا گیا۔

یاد رہے کہ مرزا محمد ابراہیم کی چوبیسویں برسی اس سال 11اگست 2023ء کو انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی۔

محترم جناب فرخ مرغوب صدیقی کے لئے یہ معلومات زیادہ کار آمد ثابت ہوں گی جنہوں نے اس راقم کو اس طرف مائل کیا کہ ضلع جہلم کے محنت کے حوالے سے مینارہ نور کو مکمل طور پر متعارف کرایا جائے ۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ نسل کو ایسے محنت کش رہنماؤں اور انکے کارناموں سے روشناس کرایا جائے اور روایتی اور غیر پیدا واری تاریخی ناموں سے ہٹ کر اصل اور سکہ بند رہنماؤں اور دانشوروں سے واقفیت دلائی جائے ۔

راقم سمجھتا ہے کہ بات صرف مرزا محمد ابراہیم کی روداد حیات تک محدود رکھی جائے تو مضمون کی رونق دوبالا رہے گی ۔اس لئے قارئین کی مزید دلچسپی کے لئے کہ بر صغیر کے محنت کشوں کے طرہ امتیاز مر زا ابراہیم نے کسی باقاعدہ سکول سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی تھی انکا صرف اور صرف زندگی بھر ایک ہدف رہا کہ ریلوے کے ملازمین کے لئے زیادہ سے زیادہ سے مراعات کا حصول ، انہیں اقتدار کے ایوانوں سے کئی دفعہ پر تعیش پیش کشیں کی گئیں لیکن سب کو ٹھکرا دیا اور خود دار رہتے ہوئے ہمیشہ کے لئے امر رہے ۔اسی وجہ سے زندگی کے اختتامی لمحات میں میں بھی کوئی اثاثہ نہ تھا۔

وہ لاہور کے مقام پر 70برس تک قیام پذیر رہے لیکن کوئی دفتر ، مکان ، کوئی دوکان یا کوئی پلاٹ ان کی ملکیت نہ تھا وہ جس حالت میں خالی ہاتھ جہلم برج ورکشاپ سے 1930ء میں مغل پورہ لاہور ورکشاپ گئے اسی طرح خالی ہاتھ 1999ء میں اپنے آبائی گاؤں کالا گجراں پہنچ گئے ۔

یاد رہے کہ 1920ء میں برج ورکشاپ جہلم میں یونین موجود تھی اسی طرح اسی عرصہ کے دوران ریلوے میں بھی مزدور یونین کا قیام عمل میں آ چکا تھا ۔مرزا محمد ابراہیم نے یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا ۔ جس کی پاداش میں مرزا محمد ابراہیم کا تبادلہ مغلپورہ لاہور کیرج شاپ میں کر دیا گیا وہاں ہزاروں کی تعداد میں مزدور ملازم تھے اسی عرصہ میں مرزا ابراہیم مزدور یونین کے صدر منتخب ہو گئے جہاں مزدوروں کے جلسوں اور جلوسوں کا خوب سلسلہ جاری رہا اسی دوران جے گوپال نام کے طالب علم کے ذریعے مرزا ابراہیم کا رابطہ کمیونسٹ پارٹی سے ہو گیا ۔

اس حوالہ سے ایک دلچسپ واقع کا علم ہوا کہ نوجوانی کی سیڑھیاں چڑھنے والے اس لا ابالی مزدور انقلابی معاشرے میں امیر اور غریب کی تفریق سے بہت متاثر تھا اور محنت کشوں کے جلسوں میں افسروں کی ٹھاٹھ باٹھ کے خلاف اور بھوکے ننگے مزدوروں کے مسائل پر جذباتی تقاریر کرتا تھا۔

ایک دن مرزا محمد ابراہیم کے بقول ایک نوجوان ان کے پاس آیا اور دریافت کرنے لگا کہ اتنی سخت تقاریر کرتے ہو مسئلہ کیا ہے ؟یا مسئلہ کا حل کیا ہے ؟۔ اس کے سوال کے جواب میں مرزا محمد ابراہیم نے کہا کہ انگریز اس ملک سے چلے جائیں اس نوجوان کا جواب تھا کہ اگر برٹش انگریز باہر چلا گیا تو پھر ہندوستانی انگلش بولنے والے آجائیں گے ۔ اس پر مرزا ابراہیم لاجواب ہو گئے۔

مرز ا صاحب اس نوجوان سے مشکوک انداز میں سوال کرنے کرنے لگے کہ وہ کون ہے کہیں وہ خفیہ ادارےCID کا ملازم تو نہیں ہے ؟حتی کہ اسے مارنے تک دھمکی دے دی لیکن جواب میں نواجوان نے پیار کیا اور بتا یا کہ وہ ایم اے کا طالب علم ہے اور ریلوے میں شنٹگ سٹاف لیبر ہے ۔

مزید انکشاف کرنے لگا کہ وہ ممنوعہ تنظیم کمیونسٹ پارٹی کا ممبر ہے جہاں سے نواجوان کے ساتھ مرزا ابراہیم کا رابطہ پختہ ہو گیا اس نوجوان نے انہیں خوب علم و آگہی سے آراستہ کیا ان پر ٹریڈ یونین ، سیاست ، مذہب، سرمایہ داری اور سوشلزم کے معنی واضح کیے ۔ اب چونکہ 1935ء میں کمیونسٹ پارٹی منظم ہو چکی تھی مرزا ابراہیم اس میں شامل ہو گئے اسی راستے سے وہ محنت کشوں کی عالمی تنظیم سے وابستہ ہو گئے ۔

اُدھر 1917ء میں سوویت یونین میں پرولتاریہ انقلاب آچکا تھا جس کے اثرات ہندوستان تک محسوس ہونے لگے تھے یہاں انگریزوں کے خلاف شدید نفرت اور بغاوت تھی ۔ 1935ء میں ہی ریلوے مین فیڈریشن Railway Man Fedarationکی بنیاد رکھی گئی جس کے صدر وی وی گری V.V Goriصدر منتخب ہوئے,جو بعد میں ہندوستان کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے جبکہ سپوت جہلم مرزا ابراہیم ریلوے مین فیڈریشن کے سینئر نائب صدر کے عہدے پر فائز ہو ئے ۔

اس جہد مسلسل کے دوران وہ بہت سی انقلابی شخصیات قائد اعظم محمد علی جناح ، لیاقت علی خان، جواہر لال نہرو، خان عبدالغفار خان، جی اعیم سید ، سید سجاد ظہیر، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی ، فیض احمد فیض ، حسن ناصر سے مربوط رہے قیام پاکستان کے بعد ریلوے وکرز یونین کی بنیاد رکھی ، پاکستان کی پہلی مزدور فیڈریشن پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن بنائی اس کے بانی صدر بنے اور ان کے ساتھ سینئر ناب صدر فیض احمد فیض ، سی آر اسلم، ایک اسپرین ، عابد حسن منٹو، فضل الہٰی بہار قربان، ڈاکٹر عبدالمالک، سو بھوگیان چندانی بھی اس فیڈریشن میں شامل رہے ۔

بعد میں ایوب خان کے دور میں کمیونسٹ پارٹی ، انجمن ترقی پسند مصنفین ، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن اور پاکستان ریلوے ورکر یونین پر پابندی عائد کر دی گئی تو نتیجہ میں مرزا محمد ابراہیم نے پہلا محنت کش سیاسی قیدی ہونے کا اعزاز حاصل کیا اور دوران حیات چھ مرتبہ شاہی قلعہ لاہور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔

قارئین کی مزید دلچسپی کے لئے مرزا محمد ابراہیم بیان بالاسطور میں شخصیات کے علاوہ حسن ناصر ، حسن عابدی، انیس ہاشمی ، محمود الحق عثمانی، ولی خان، دادا امیر حیدر، دادا فیروز دین کے فخر جہلم اور بر صغیر میں محنت کش تحریک کے بانی مرد قلندر مرزا محمد ابراہیم آج سے 24سال قبل 11اگست 1999ء کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو سوگوار کر گئے مرحوم کی یاد گار کٹھن زندگی کو سرخ سلام ۔

تحریر: پروفیسر افتخار محمود
فون نمبر 03065430285 – 03015430285

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button