جہلم شہر میں مہنگائی کا طوفان تھم نہ سکا، اشیائے خورونوش کے سرکاری نرخنامے کو نظر انداز کرتے ہوئے دکانداروں نے اپنی مرضی کے دام مقرر کر رکھے ہیں، جس کی وجہ سے غریب عوام لٹنے پر مجبور ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم میں مہنگائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے عوام شدید پریشان ہیں۔ دکاندار سرکاری نرخوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سبزیوں اور دیگر اشیاء کو من مانی قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے خریداروں اور دکانداروں کے درمیان تلخ کلامی اور بحث و تکرار معمول بن گئی ہے۔
سرکاری نرخنامے کے مطابق آلو (درجہ اول) 50 روپے فی کلو مقرر تھا لیکن دکاندار اسے 70 روپے میں فروخت کرتے رہے۔ پیاز کی سرکاری قیمت 43 روپے مقرر تھی لیکن مارکیٹ میں 60 روپے فی کلو بیچا گیا۔
اسی طرح ٹماٹر 50 روپے کی بجائے 70 روپے، لہسن چائنہ 590 کے بجائے 700 روپے، تھائی لینڈ لہسن 420 کی بجائے 550 روپے، ادرک چائنہ 420 کے بجائے 550 روپے، شملہ مرچ 65 کے بجائے 110 روپے، بھنڈی 300 کے بجائے 380 روپے اور سبز مرچ 100 کے بجائے 130 روپے فی کلو تک فروخت کی گئی۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث مہنگائی کے ستائے عوام من مانی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔


