جہلم: جی ٹی روڈ کی حالت زار ناقابلِ برداشت حد تک بگڑ چکی ہے اور یہ اہم شاہراہ گڑھوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مہنگائی کم کرنے کے دعوے صرف زبانی جمع خرچ ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ خود ساختہ مہنگائی نے ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے پچھلے تین ماہ کے دوران جی ٹی روڈ پر موجود ٹول پلازوں کے ٹیکسز میں بار بار اضافے کی روایت برقرار رکھی ہے۔ تین ماہ قبل کار کے لیے ٹول ٹیکس 30 روپے تھا جو پہلے 40، پھر 50 اور رواں سال 5 جنوری سے 60 روپے فی چکر وصول کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح دیگر گاڑیوں کے ٹیکسز میں بھی غیر معمولی اضافے سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ماضی میں قیمتوں میں اضافے کو ڈالر کے اتار چڑھاؤ سے جوڑا جاتا تھا، لیکن اب جب کہ ڈالر کی قیمت مستحکم ہے اور حکومت مہنگائی میں کمی کے دعوے کر رہی ہے، ایک حکومتی ادارے کے ٹیکسز میں اتنا بڑا اضافہ حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات اور این ایچ اے کی جانب سے ٹول ٹیکسز میں اضافے کی کوئی مناسب وجہ یا جواز پیش نہیں کیا گیا، جس پر عوام نے شدید ردعمل دیا ہے۔ اس اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث ٹول پلازوں پر جھگڑوں اور ہنگامہ آرائی کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ نتیجتاً، عملے کی ناقص کارکردگی کے باعث ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہو چکی ہے۔ گزشتہ پانچ دنوں سے جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں، جو جہلم تک پھیلی ہوئی ہیں۔
عوامی حلقوں نے چیف آف آرمی اسٹاف، چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ حالیہ اضافے کو فوری طور پر ختم کرنے کے احکامات جاری کریں تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی ہو سکے اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو ریلیف مل سکے۔


