جہلم: آئیسکو سرکل جہلم کی کینٹ، اربن اور سول لائن سب ڈویژن کی ناقص کارکردگی کے باعث اندرون شہر اور ملحقہ علاقوں کے گلی محلوں میں بجلی کی لٹکتی تاریں اور ننگے جوڑ شہریوں کے لیے موت کا پیغام بننے لگے ہیں۔ برسات کے موسم میں یہ خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں، جس پر صارفین اور شہری شدید احتجاج کر رہے ہیں۔
آئیسکو کی کینٹ، سول لائن اور اربن سب ڈویژن کی مجموعی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ گنجان آبادیوں، بازاروں اور محلوں میں بجلی کے بے ہنگم تاروں کے گچھے مکانات کی دیواروں، درختوں اور کھمبوں سے نیچے لٹک رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ موجود بجلی کے ننگے جوڑ عوام کی زندگیوں کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
برسات کے موسم میں ان لٹکتی تاروں سے پیدا ہونے والی چنگاریاں اور شارٹ سرکٹ روز مرہ کا معمول ہیں، جس کے باعث کسی بھی وقت بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے مسلسل چشم پوشی کر رہے ہیں جبکہ آئے دن حادثات کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
بجلی صارفین اور شہریوں نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر پانی و بجلی سے مطالبہ کیا ہے کہ آئیسکو سرکل جہلم میں نافذ جنگل کے قانون کا فوری خاتمہ کیا جائے اور شہریوں کو بجلی کی بنیادی سہولت محفوظ ماحول میں فراہم کی جائے۔


