امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ انتہائی بابرکت ہے جس میں اللہ کریم نے شب قدر عطا فرمائی ہے۔ شب قدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اسی رات قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ یہ وہ مبارک عشرہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوزخ سے نجات کا پروانہ عطا فرماتے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے جمعۃ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیلۃ القدر وہ رات ہے جس میں وہ ارواح جو اس دنیا سے جا چکی ہیں اور نجات پا چکی ہیں واپس آتی ہیں اور اپنی اولاد کو دیکھتی ہیں۔ اگر ان کی اولاد نیکی کی راہ پر ہو تو خوش ہوتی ہیں اور دعائیں دیتی ہیں، جبکہ اگر وہ گناہوں میں زندگی گزار رہی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے ساتھ واپس لوٹ جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب دنیاوی امور کے لیے دین کو چھوڑ دیا جائے تو دنیاوی مصروفیات اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں اور انسان ان میں ایسا الجھ جاتا ہے کہ نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر انسان اپنی پہلی ترجیح دین کو دے تو اللہ تعالیٰ اسی وقت میں برکت عطا فرما دیتے ہیں، جس سے دین کے امور بھی مکمل ہو جاتے ہیں اور دنیا کے کام بھی رہ نہیں جاتے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اسلام دنیا کے کاموں اور دولت کمانے سے منع نہیں کرتا بلکہ صرف حلال اور طیب کی شرط لگاتا ہے تاکہ کسی کا حق نہ چھینا جائے۔ اسلام اعتدال کا درس دیتا ہے جہاں دینی علوم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے وہاں دنیاوی علوم بھی ضروری قرار دیتا ہے۔ دنیا کو بالکل ترک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا لیکن صرف دنیا ہی کے ہو کر رہ جانا بھی درست طرزِ فکر نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج زندگی میں جن مسائل کا ہم سامنا کر رہے ہیں ان کی بنیادی وجہ قرآن کریم سے دوری ہے، کیونکہ بندہ مومن کے لیے ایسا کوئی سوال نہیں جس کا جواب قرآن میں موجود نہ ہو۔ انسانی معاشرے کی معراج قرآن کریم میں ہے اور ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اللہ کی اس کتاب سے کتنا استفادہ حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ میں جو تنگی اور بے چینی پائی جا رہی ہے اس کا حل رمضان المبارک کی عبادات اور آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے میں ہے۔ ہمیں خالصتاً اللہ کے لیے دین اسلام پر عمل کرنا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی، امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ انتہائی بابرکت ہے جس میں اللہ کریم نے شب قدر عطا فرمائی ہے۔ شب قدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اسی رات قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ یہ وہ مبارک عشرہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوزخ سے نجات کا پروانہ عطا فرماتے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کہ لیلۃ القدر وہ رات ہے جس میں وہ ارواح جو اس دنیا سے جا چکی ہیں اور نجات پا چکی ہیں واپس آتی ہیں اور اپنی اولاد کو دیکھتی ہیں۔ اگر ان کی اولاد نیکی کی راہ پر ہو تو خوش ہوتی ہیں اور دعائیں دیتی ہیں، جبکہ اگر وہ گناہوں میں زندگی گزار رہی ہوں تو دکھ اور تکلیف کے ساتھ واپس لوٹ جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب دنیاوی امور کے لیے دین کو چھوڑ دیا جائے تو دنیاوی مصروفیات اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں اور انسان ان میں ایسا الجھ جاتا ہے کہ نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر انسان اپنی پہلی ترجیح دین کو دے تو اللہ تعالیٰ اسی وقت میں برکت عطا فرما دیتے ہیں، جس سے دین کے امور بھی مکمل ہو جاتے ہیں اور دنیا کے کام بھی رہ نہیں جاتے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اسلام دنیا کے کاموں اور دولت کمانے سے منع نہیں کرتا بلکہ صرف حلال اور طیب کی شرط لگاتا ہے تاکہ کسی کا حق نہ چھینا جائے۔ اسلام اعتدال کا درس دیتا ہے جہاں دینی علوم حاصل کرنے کی تلقین کرتا ہے وہاں دنیاوی علوم بھی ضروری قرار دیتا ہے۔ دنیا کو بالکل ترک کرنے کا حکم نہیں دیا گیا لیکن صرف دنیا ہی کے ہو کر رہ جانا بھی درست طرزِ فکر نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج زندگی میں جن مسائل کا ہم سامنا کر رہے ہیں ان کی بنیادی وجہ قرآن کریم سے دوری ہے، کیونکہ بندہ مومن کے لیے ایسا کوئی سوال نہیں جس کا جواب قرآن میں موجود نہ ہو۔ انسانی معاشرے کی معراج قرآن کریم میں ہے اور ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اللہ کی اس کتاب سے کتنا استفادہ حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ میں جو تنگی اور بے چینی پائی جا رہی ہے اس کا حل رمضان المبارک کی عبادات اور آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے میں ہے۔ ہمیں خالصتاً اللہ کے لیے دین اسلام پر عمل کرنا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی، امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔


