جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں پٹوار خانوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پٹواریوں کی مسلسل غیر حاضری نے سائلین کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کئی پٹوار خانوں میں سرکاری ریکارڈ کی نگرانی اور عوامی معاملات کی ذمہ داریاں باقاعدہ پٹواریوں کے بجائے پرائیویٹ منشی نمٹارہے ہیں، جو نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ انتظامی کمزوری کا بھی واضح ثبوت ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پرائیویٹ منشی انتقال، فرد اور دیگر اہم کاغذات کے اجرا کے لیے سائلین سے مبینہ طور پر بھاری نذر دریافت کرتے ہیں، جس کے باعث شہری روزانہ کی بنیاد پر کئی چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ پٹواریوں کی دفاتر سے غیر موجودگی اور ریکارڈ پر غیر متعلقہ افراد کے اثر و رسوخ نے سائلین کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے نہ صرف سرکاری نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ شہر اور ضلع بھر کے پٹوار خانوں کے سرپرائز وزٹ اور اچانک معائنہ جات کیے جائیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور غیر حاضر پٹواریوں اور پرائیویٹ منشیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔


