ضلع جہلم سمیت ملک میں رواں ماہ (فروری) کے دوران مسلسل مہنگائی کی شرح میں کمی کا رجحان جاری ہے، اس کے باوجود روں ہفتے 22 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی رپورٹ جاری کردی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک بھر میں گرانی میں کمی آرہی ہے مگر اس کمی کی رفتار بہت کم ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے ملک میں ہفتہ وارمہنگائی کی شرح میں0 اعشاریہ 78 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بھی کم ہوکر34 اعشاریہ 25 فیصد کی سطح پر آگئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق شرح میں کمی کے باوجود ایک ہفتے کے دوران 22 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 11کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی اور 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ایک ہفتے کے دوران آلو ،گوشت اور دالوں سمیت کئی اشیاء مہنگی ہوئیں جن میں آ لو کی قیمتوں میں 2 اعشاریہ 80 فیصد، ماچس کی ڈبیہ کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 31 فیصد، انرجی سیور 0 اعشاریہ 62فیصد،دال ماش 0 اعشاریہ 35فیصد،دال مونگ 0 اعشاریہ 56فیصد اور مٹن کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 48فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس کے برعکس انڈے کی قیمتوں میں28 اعشاریہ 82فیصد،ٹماٹر 0 اعشاریہ 29فیصد، پیاز 3 اعشاریہ 48فیصد، چکن کی قیمتوں میں4 اعشاریہ 23فیصد، آٹا0 اعشاریہ 32فیصد،ایل پی جی 2 اعشاریہ 85فیصد، دال مسور0 اعشاریہ 28فیصد اور سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں0.18فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 28 اعشاریہ 68فیصد رہی ہے۔
اسی طرح 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 32.88فیصد ریکارڈ کی گئی، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے گرانی کی شرح38.54فیصد رہی۔
اسی طرح 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 35 اعشاریہ 59فیصد اور44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 32 اعشاریہ 08فیصدرہی ہے۔


