پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ صارفین ابھی سم بند کرانے پر 200 روپے چارجز ادا نہ کریں۔
ایکس پر جاری پیغام میں پی ٹی اے نے کہا ہے کہ موبائل آپریٹرز 31 دسمبر سے پہلے سم ریٹرن چارجز کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ غیر استعمال شدہ یا غیر ضروری سمز کو بند کروانے والے صارفین کو 31 دسمبر تک کوئی چارجز ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے یہ اعلان سوشل میڈیا پر ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا جس میں ایک صارف نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا نیٹ ورک اس کی سم کی واپسی کے لیے رقم وصول کر رہا ہے حالانکہ آخری تاریخ تو ابھی نہیں آئی۔
Complaint against the franchise/service centre can be lodged to PTA by dialing Consumer Support Centre helpline: 0800-55055, at online complaint management system (link: https://t.co/8VVtJR4EEy) or through the PTA CMS mobile app.
— PTA (@PTAofficialpk) December 4, 2023
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں صارفین ہیلپ لائن، اتھارٹی کے ویب پورٹل یا موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے پی ٹی اے میں شکایت درج کراسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 11 نومبر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا تھا کہ وہ شہری جو اپنی سم کارڈز بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں اگلے سال سے فی سم 200 روپے چارجز دینے ہوں گے۔
اب یکم جنوری 2024 سے متعلقہ موبائل آپریٹرز چھ ماہ سے کم مدت سے زیر استعمال موبائل سموں کی واپسی پر 200 روپے تک چارجز لگانے کے مجاز ہیں.
سموں کا اسٹیٹس جاننے کے لیے https://t.co/31vvCFH62q وزٹ کریں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر (بغیر ڈیش لگائے) 668 پر ایس ایم ایس کریں (چارجز لاگو… pic.twitter.com/fuahPT8YRr
— PTA (@PTAofficialpk) December 3, 2023
اخباری رپورٹ کے مطابق نئے چارجز کا اطلاق ملک بھر میں (بشمول گلگت بلتستان، آزاد کشمیر) یکم جنوری 2024 سے ان سم کارڈز پر ہوگا، جو 6 ماہ سے کم مدت میں صارفین کے استعمال میں ہیں۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو 31 دسمبر تک بغیر کسی چارجز کے سم واپس کرنے یا ان کو خارج کرنے کا وقت مہیا کیا تھا۔


