جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں چائلڈ لیبر اور مزدوروں کے استحصال کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ مختلف شاپنگ مالز، نجی ہسپتالوں، دکانوں، ورکشاپس اور پٹرول پمپس میں لیبر ایکٹ کی کھلے عام خلاف ورزیاں جاری ہیں جبکہ محکمہ لیبر کے ضلعی ذمہ داران کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ضلع بھر کے متعدد کاروباری مراکز میں نہ تو لیبر رجسٹریشن یا ملازمین کے سرٹیفکیٹس آویزاں ہیں اور نہ ہی مزدوروں کو قانون کے مطابق کم از کم اجرت ادا کی جا رہی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کم عمر بچوں کو طویل اوقاتِ کار کے دوران مشقت پر لگایا گیا ہے، جو نہ صرف چائلڈ لیبر قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ کے مترادف بھی ہے۔
ذرائع کے مطابق بالغ مزدوروں کی اکثریت کو بھی مکمل تنخواہ ادا نہیں کی جاتی جبکہ اوور ٹائم، ہفتہ وار چھٹی اور سوشل سکیورٹی جیسے بنیادی حقوق کا کوئی تصور موجود نہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ لیبر قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ ضلع جہلم کے انچارج اور فیلڈ افسران مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ متاثرہ مزدوروں اور شہریوں کی جانب سے شکایات کے باوجود قانون شکن عناصر کے خلاف خاطر خواہ ایکشن نہ لیا جانا، محکمہ کی مجموعی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
سماجی کارکنوں، شہری حلقوں اور مزدور تنظیموں نے مریم نواز شریف، سیکرٹری لیبر، صوبائی محتسب پنجاب، کمشنر راولپنڈی اور میر رضا اوزگن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، لیبر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کا جامع جائزہ لیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
سماجی کارکنوں، شہری حلقوں اور مزدور تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مؤثر کریک ڈاؤن، اچانک انسپکشنز اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مزدوروں کو ان کے قانونی حقوق دلائے جا سکیں، قانون کی بالادستی قائم ہو اور مظلوم طبقے کو حقیقی انصاف مل سکے۔


