جہلم شہر اور گردونواح کے بیشتر قبرستان انتظامیہ کی غفلت کے باعث شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکے ہیں۔
کئی قبرستانوں کی چار دیواریاں جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں، جبکہ قبروں کے درمیان گندگی کے ڈھیر، خودرو پودے اور خاردار جھاڑیاں اُگ آئی ہیں جس سے ان مقدس مقامات کا تقدس مجروح ہو رہا ہے۔
قبرستانوں میں صفائی ستھرائی کا کوئی منظم نظام موجود نہیں، جس کے باعث موذی حشرات، سانپ اور بچھوؤں کی بھرمار نے شہریوں کے لیے خطرناک صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے آنے والے لواحقین کو گندگی، بدبو اور کیڑوں مکوڑوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ قبرستانوں میں داخل ہوتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے، جگہ جگہ جھاڑیاں اور گندگی کے ڈھیر لگے ہیں، اور کوئی بھی ادارہ ان کی صفائی کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میونسپل کمیٹی اور یونین کونسلز کے عملے کو باقاعدگی سے صفائی کروانی چاہیے تاکہ یہ مقدس مقامات اپنی حرمت اور وقار برقرار رکھ سکیں۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور قبرستانوں کی صفائی ستھرائی، چار دیواری کی مرمت اور جھاڑیوں کی تلفی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ شہرِ خاموشاں کو گندگی اور بدنظمی سے نجات دلائی جا سکے۔


