جہلم: پنجاب حکومت کی جانب سے ای۔ اسٹام پیپر کے اجراء کے لیے نیا خودکار نظام نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت خریدار کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ موبائل نمبر اور آن لائن ویری فکیشن لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ تاہم اس فیصلے کے بعد شہریوں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں کے عوام بھی شدید مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔
دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بزرگ شہریوں کی اکثریت کے شناختی کارڈ پر موبائل نمبر ہی رجسٹرڈ نہیں، جبکہ ان کے فنگر پرنٹس مطابقت نہ رکھنے کے باعث نئی سمز کی خریداری بھی ممکن نہیں ہو رہی۔ دوسری جانب خواتین کی بڑی تعداد کے پاس موبائل فون موجود ہی نہیں اور جن کے پاس ہیں، ان میں اکثر سمز ان کے اپنے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہوتیں، جس کی وجہ سے وہ بھی ای۔ اسٹام پیپر خریدنے سے محروم رہ جاتی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی بار شناختی کارڈ ویری فکیشن کے بعد سسٹم او ٹی پی (OTP) میسج بھی نہیں بھیجتا، جس کے باعث خریداروں کو بار بار دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ ایک شہری نے شکوہ کیا کہ ہمیں ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے لیے اسٹام پیپر درکار ہوتا ہے مگر یہ نیا طریقہ کار ہماری زندگی مزید مشکل بنا رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت دیہی علاقوں اور بزرگ شہریوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل سہولت فراہم کرے۔ ان کے مطابق لائیو تصویر بنالی جائے اور وہ تصویر اسٹام پیپر پر چسپاں کردی جائے تاکہ وہ ثبوت کے طور پر استعمال ہوسکے۔


