جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں قائم متعدد پٹرول پمپوں پر مبینہ ہیرا پھیری اور فراڈ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
شہریوں کی جانب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پٹرول پمپ مالکان مختلف طریقوں سے صارفین کو دھوکہ دے کر ماہانہ کروڑوں روپے کا ناجائز منافع کما رہے ہیں، جبکہ متعلقہ سرکاری اداروں کی خاموشی نے چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپوں کی مشینوں میں سافٹ ویئر کی غیر قانونی تبدیلی، نوزل لاک لگا کر مقدار کم کرنا اور صارفین کو باتوں میں الجھا کر میٹر آگے کر دینا معمول بنتا جا رہا ہے۔ متعدد مقامات پر دیہی و مضافاتی علاقوں میں رکھے گئے متحرک پٹرول پمپوں پر نرخ بھی مختلف ہوتے ہیں، جو ایک اور سنگین بے ضابطگی ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ہیر پھیر میں ملوث مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پٹرول کے نرخوں میں بددیانتی اور دھوکہ دہی جیسے عوامل سے غریب اور سفید پوش طبقہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جسے حکومت کی طرف سے ملنے والا کوئی بھی ریلیف میسر نہیں آتا۔
عوامی و سماجی حلقوں نے متعلقہ سرکاری محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے باقاعدہ نگرانی کا نظام فعال کریں اور ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں جو عوام کو لوٹنے میں ملوث ہیں۔


