پنڈدادنخان: ایجوکیٹر سکول پنڈدادنخان کی کینٹین میں 10 سالہ طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کی ڈی این اے رپورٹ قطعی طور پر منفی نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان میں ڈی ایس پی عامر شاہین گوندل نے میڈیا دے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم امتیاز کی رپورٹ میں ایک فیصد بھی بے گناہی ثابت نہیں ہوئی، ملزم سو فیصد جرم میں ملوث ہے۔
عامر شاہین گوندل نے کہا کہ متاثرہ طالبہ کے 164 کے بیان اور ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بھی ملزم امتیاز پر جرم پہلے ہی ثابت ہو چکا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر نجی سکول کے مالکان اور ان کے حمایت یافتہ افراد کی جانب سے پھیلائی گئی بے بنیاد رپورٹس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد سے معافی نامہ اور بیان حلفی لیا جائے گا۔
طالبہ سے جنسی زیادتی کے خلاف خواتین اور بچوں کا احتجاج
پیر کے روز پنڈدادنخان میں 10 سالہ طالبہ سے جنسی زیادتی کے خلاف سینکڑوں خواتین اور بچوں نے احتجاج کیا۔ احتجاج میں شرکاء نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔
اسسٹنٹ کمشنر پنڈدادنخان اور ڈی ایس پی پنڈدادنخان سرکل نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے مذاکرات کے دوران یقین دہانی کرائی کہ بچوں کے تحفظ کیلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے، سانحہ ایجوکیٹر سکول میں ملوٹ ملزم کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی اور قانون کے مطابق سزا ملے گی۔
یاد رہے کہ جنسی زیادتی کا واقعہ گزشتہ ماہ پیش آیا تھا کہ سکول کینٹین کے ٹھیکیدار امتیاز نے دس سالہ طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بچی سکول سے جب گھر واپس گئی تو گھر جانے کے بعد بچی کی طبیعت خراب ہوئی اور طالبہ کو اسپتال منتقل کیا گیا تو سارے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا۔

