بریڈفورڈ: یارکشائر کی مختلف مساجد میں حضرت خواجہ پیر محمد عتیق الرحمٰن فیض پوری نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے چھٹے عرس کے موقع پر اُن کی دینی، رُوحانی اور تنظیمی تحریکی خدمات کو زبردست خراج تحسین اور ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
خلیفہ مجاز حافظ طارق محمود ربانی نے ڈیوزبری کی جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیر عتیق الرحمٰن نے حضورﷺ کی ختم نبوت اور ناموس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے معاشرے میں بد عقیدگی اور جاہلانہ رسومات کے خلاف ہمیشہ علم جہاد بلند کئے رکھا۔
اس موقع پر پیر عتیق الرحمٰن کی روح کو ایصال ثواب کیلئے انہوں نے خصوصی دعا کرائی۔
جامعہ عثمانیہ بریڈفورڈ میں بھی دعائیہ تقریب ہوئی جس سے مفتی محمد بشیر، طاہر نقشبندی، پیر سید سلطان شاہ مشہدی، قاری محمد علی اظہر اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیر محمد عتیق الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ تحریک ختم نبوت کے عظیم سپہ سالار تھے، انہوں نے اپنی ساری زندگی تحفظ ناموس رسالت ﷺکیلئے پہرہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دریں اثناء برطانیہ بھر کے علما ء ومشائخ نے پیر محمد عتیق الرحمٰن فیض پوری رحمۃ اللہ علیہ کے چھٹے یوم وصال پر اُن کی خدمات کو زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔
چیئرمین مرکزی جماعت اہلسنت یوکےمحقق اسلام علامہ پیر سید زاہد حسین شاہ رضوی، صاحبزادہ حافظ محمد ظہیر احمد نقشبندی صدر مرکزی جماعت اہلسنت یوکے، مفتی برطانیہ علامہ مفتی فضلِ احمد قادری، مفتی فیض رسول نقشبندی اور دیگر علماء نے کہا کہ پیر محمد عتیق الرحمٰن فیض پوری نہ صرف خطہ کشمیر بلکہ پاکستان میں بھی اہلسنت کی ایک مضبوط آواز تھے انہیں نے آزاد کشمیر کی اسمبلی میں ختم نبوت کے حوالے سے اپنا ایک تاریخی کردار ادا کیا ان کے وصال سے پاکستان اور کشمیر میں جو اہلسنت کا ملی و سیاسی خلا پیدا ہوا وہ تاحال پر نہیں ہو سکا ہے۔ اس موقع پر علماء نے اُن کے درجات بلندی کے لیے خصوصی دعا کی۔


