عالم ربانی حضرت مولانا مفتی قاضی غلام محی الدین رحمہ اللّٰہ کا تعلق علاقہ ڈومیلی (تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم) کے دور افتادہ قدیمی گاؤں گوڑھا اُتَّم سِنگھ سے تھا۔
غالباً گاؤں کا نام کسی سکھ کے نام پر ہوگا، جیسے اس علاقہ میں دیگر کچھ گاؤں دیال، پھڈیال، نگیال اور بنگیال وغیرہ کے نام سے موسوم ہیں۔ تقسیم ہند سے قبل ان علاقوں میں ہندو اور سکھ بڑی تعداد میں آباد تھے اور آج بھی مختلف صورتوں میں ان کی باقیات علاقہ بھر میں موجود ہیں۔
یادش بخیر! کہ پڑوسی ملک سے ایک مرتبہ "اُتَّم سِنگھ لائبریری” کے ذمہ داران نے بھی مجھ سے رابطہ کیا تھا اور اس گاؤں کی تصاویر وہاں منگوائی تھیں۔
مولانا غلام محی الدین اپنے زمانے کے بلند پایہ مدرس و محدث عالم دین تھے۔ علم تفسیر و حدیث کے علاوہ فن مناظرہ میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ برصغیر پاک و ہند کے علاوہ افغانستان اور بخارا تک آپ کے مخصوص انداز تدریس کا شہرہ تھا۔
مولانا غلام محی الدین کے معاصرین میں پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمہ اللّٰہ، مولانا کرم الدین دبیر رحمہ اللّٰہ آف بھیں چکوال اور مولانا فقیر محمد جہلمی رحمہ اللّٰہ کا نام سرفہرست ہے۔ نیز مولانا غلام محی الدین سے میاں محمد بخش رحمہ اللّٰہ کی بھی ملاقات ہوئی تھی جس کا حوالہ ان کی سوانح عمری میں ملتا ہے۔
جبکہ دستیاب مستند معلومات کے مطابق مولانا کے تلامذہ میں علاقہ ڈومیلی کے معروف صحیح العقیدہ صوفی بزرگ سید فیض اللّٰہ شاہ صاحب آف چھبر سیداں، مولانا عبد الحکیم انگوی اور مولانا محمد ابراہیم سیاکھوی آف سیاکھ شریف آزاد کشمیر کے نام ملتے ہیں۔
اگست 1900ء میں حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمہ اللّٰہ اور آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے مابین جو مناظرہ یا مباحثہ بادشاہی مسجد لاہور میں ہونا طے ہوا تھا اور اس مناظرے میں جن 85 علماء کرام کو چیلنج دیا گیا تھا ان میں مولانا غلام محی الدین کا نام شامل ہے اور اس مباحثے میں پیر صاحب کے ساتھ جن چار جید علماء کرام نے مرزا قادیانی سے گفتگو کرنی تھی ان چار میں سے ایک موصوف مولانا غلام محی الدین رحمہ اللّٰہ بھی تھے۔
پیر مہر علی شاہ صاحب کا گولڑہ سے لاہور کا سفر ٹرین پر ہوا تھا۔ جہلم ریلوے اسٹیشن پہنچنے پر ان کا تاریخی استقبال ہوا اور پیر صاحب رحمہ اللّٰہ کا خطاب بھی ہوا تھا اور وہیں جہلم ریلوے اسٹیشن سے مولانا غلام محی الدین بھی آپ کے ساتھ جاملے تھے۔
مولانا غلام محی الدین نے ایک عرصہ تک اپنے گاؤں گوڑھا اُتَّم سِنگھ میں تدریس فرمائی اور اسی وجہ سے آپ "محدث گوڑھا” کے نام سے مشہور و معروف تھے۔
1906ء یا 1907ء میں امرتسر کی تاریخی مسجد خیرالدین میں مدرسہ نعمانیہ منتقل ہوا، جس کے اول مدرس یہی مولانا مولوی غلام محی الدین جہلمی رحمہ اللّٰہ مقرر ہوئے جبکہ نائب مدرس دو تھے۔ ایک تو علماء لدھیانہ کے خاندان سے تھے جن کا نام معلوم نہیں ہوسکا اور دوسرے حضرت مولانا مفتی محمد حسن رحمہ اللّٰہ (حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللّٰہ کے خلیفہ اجل اور بانی جامعہ اشرفیہ لاہور) تھے۔
مولوی غلام محی الدین مرحوم کی وفات کے بعد مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدرسہ نعمانیہ امرتسر کے اول مدرس ہوگئے۔
محترم جناب حسن نواز شاہ صاحب (نڑالی، گوجرخان) کی فراہم کردہ معلومات اور شکریہ کے ساتھ قاضی محمد حسن صدیقی کالسوی مرحوم کی قلمی روئیداد کے مطابق مؤرخہ 22 اپریل 1911ء بروز بدھ دن گیارہ بجے بسبب طاعون مولانا قاضی غلام محی الدین رحمہ اللّٰہ کا انتقال ہوا۔
"تذکرہ علماء پنجاب” از اختر راہی کے مطابق مولانا موصوف کا انتقال مدرسہ نعمانیہ جامع مسجد خیرالدین امرتسر میں ہوا اور ان کی میت وہاں سے وطن مالوف پہنچائی گئی۔
آپ کے صاحبزادے مولانا عبدالعزیز رحمہ اللّٰہ ہوگزرے ہیں جو 1943ء سے قبل دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوکر تشریف لائے، آپ لاہور کی صدر مسجد میں بطور خطیب مقرر رہے بعد ازاں موجودہ ضلع چکوال کے گاؤں خانپور تشریف لے آئے وہیں خدمات دینیہ سرانجام دیں، وہیں آپ کا انتقال ہوا اور وہیں تدفین ہوئی۔
واللہ اعلم بالصواب
یہ 2 اگست 2021ء بمطابق ۲٣ ذی الحجہ ١٤٤٢ھ بروز سوموار کی ایک یادگار صبح خوشگوار تھی جب ہم والد گرامی خادم القرآن حضرت مولانا قاری محمد اسحاق فاروقی نوراللّٰہ مرقدہ کی معیت میں اور فاضل نوجوان مولانا حافظ محمد ظریف آف سماہل کی راہنمائی میں تلاش بسیار کے بعد گوڑھا اُتَّم سِنگھ کے قدیمی قبرستان میں مولانا غلام محی الدین رحمہ اللّٰہ کی قبر پر حاضر ہوئے تھے۔ اس موقع پر میرے برادر صغیر حافظ قاری محمد غفران فاروق رحمہ اللّٰہ اور برادرم مولانا حافظ محمد بلال آف دانی دہرہ بھی ہمراہ تھے۔
لکھاری قاری محمد نعمان فاروقی جامعہ صدیقیہ قادریہ کے مدیر اور مرکزی جامع مسجد مدنی محلہ شمالی ڈومیلی، ضلع جہلم کے خطیب ہیں.


