انداز بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
ایک عرصے کے بعد علامہ اقبال کے معروف شعر کے عنوان سے معاصر ہذا جہلم اپڈیٹس کی وساطت سے صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی واقعی توجہ کے لیے چند تجاویز پیش کرنے کی قلمی کاوش کرنے جا رہا ہوں، اس خواہش کے ساتھ کہ کاش ذیل میں پیش کردہ تجاویز کی حقیقت کو راقم کی مخاطب شخصیت (وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز) سمجھ سکیں اور ان کی گہرائی کو جاننے کے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کر لیں تو صوبہ پنجاب میں وہ انقلاب رونما ہو سکتا ہے جس کی توقع فی الوقت کرنا آسان نہیں۔
کیونکہ انقلاب صرف حصولِ اقتدار کا ہرگز نام نہیں ہوتا، اصل میں انقلاب کی اصلیت عوامی جمہوریہ چین کے بانی رہنمائے سوشلسٹ انقلاب ماؤ زے تنگ کے اس قول کے اندر مضمر ہے کہ معاشرے میں انقلاب کے نتائج اس وقت واضح ہو کر نمایاں دکھائی دیتے ہیں جب پورے سماج کے اندر ریاست و حکومت کی طرف سے "ایک چیز سب کے لیے اور سب چیزیں ہر ایک کے لیے بآسانی دستیاب ہوں”۔
ریاستی ایوانوں سے ہر وقت یہ سعی جاری رہے کہ اس صوبے یا ملک کی سرحدوں کی اندرونی حدود میں کوئی فرد بغیر چھت کے نہ رہے، کوئی نومولود ذاتی انفرادی غربت کی وجہ سے دودھ کے بغیر نہ رہے، اسی طرح نومولود سے کسی معمر فرد تک بڑے سے بڑے علاج سے، معاشی کمزوری کی وجہ سے محروم نہ ہو، سب سے بڑھ کر یہ کہ کوئی بالغ مرد و عورت اپنی بساط کے مطابق تعمیرِ صوبہ یا وطن میں مخصوص وقت کے لیے اپنی محنت کا حصہ ڈالنے سے پیچھے نہ رہے تو اس وقت کوئی انقلابی ویژن (فکر، نظریہ) کامیاب ثابت ہو سکتا ہے۔
یہاں میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محترم شہباز شریف کی ایک مثال دینا بہت ضروری تصور کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک عام کاغذ کے ٹکڑے پر لکھے ایک رقعہ نما خط کو پڑھ کر صوبہ بھر کے تمام سرکاری ثانوی تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر لیبارٹریز قائم کرنے کے بیک جنبش حکم صادر فرما کر "سب چیزیں ہر ایک کے لیے” کا قول درست ثابت کر دیا تھا۔
تو ان دنوں سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ کا ایک ویڈیو کلپ چل رہا ہے کہ وہ اپنے ویژن "اپنی چھت، اپنا گھر” کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے صوبہ پنجاب بھر کے تمام ملکیت سے محروم شہریوں کے نام پانچ مرلہ اور دس مرلہ کے سکنی/رہائشی پلاٹ مفت الاٹ کرنے کا پروگرام سامنے لانے کی خواہش ظاہر کر رہی ہیں تاکہ ان پلاٹوں کی ملکیت کی ضمانت پر ان لوگوں کو برائے تعمیر رہائشی مکانات بلاسود قرضہ کی سکیم بیان شدہ مندرجہ بالا میں شامل ہونے کا موقع بآسانی میسر آ سکے۔
بات درست ہے، بالکل درست ہے، کوئی شک و شبہ نہیں ہے لیکن اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے راقم الحروف مثالی وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی خدمت میں چند مزید ایسی تجاویز پیش کرنے کی قلمی جسارت کر رہا ہے کہ موصوفہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا ویژن مذکورہ مزید مضبوط، واضح اور پُر اثر ثابت ہو سکے۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نجی ملکیت تمام معاشی، معاشرتی اور اخلاقی جرائم کی بنیاد ہوتی ہے لیکن پاکستان میں رائج الوقت آزاد منڈی کی معیشت کے نظام کا تقاضا ہے کہ اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے مسئلے کی نزاکت کے مطابق حل کرنے کا کوئی ایسا طریقہ سامنے لایا جائے کہ مسئلہ حل بھی ہو جائے اور زیادہ مسائل کا باعث بھی نہ بنے۔
جہاں تک تاریخی دستیاب معلومات کا تعلق ہے تو 1929/30ء میں حکومت برطانیہ نے ہندوستان میں آخری بار پوری اراضی کو بندوبست کیا تھا، جسے بندوبستِ دوامی کا نام دیا گیا تھا اور 1940ء میں یعنی قبل از قیام پاکستان زمینوں کی ملکیت کے اس بندوبست کو جامع شکل دی گئی تھی۔ ہندوستان بھر کی تمام زرعی و سکنی اراضی کا بندوبست کیا گیا، ہر شہری اور دیہی آبادی کے خسرہ جات کے گرد سرخ لکیریں لگائی گئیں، جن کے نشانات آج بھی کہیں کہیں دکھائی دیتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد عام معلومات کے مطابق 1963/64ء میں زمینی ملکیت کا بندوبست قائم کیا گیا تھا، اس کے بعد خاموشی ہے۔
اس لیے مضمون کی وساطت سے ایک طریقہ پیشِ خدمت ہے، وہ اس طرح کہ ہمارے پورے صوبے کے شہروں و دیہات میں لاکھوں کے حساب سے ایسے باشندے/خاندان موجود ہیں جو ایک پلاٹ یا قطعۂ اراضی پر دو، دو اور تین نسلوں سے آباد ہیں، مکانات تک بھی تعمیر شدہ ہیں لیکن قطعۂ اراضی کی اپنے نام ملکیت سے محروم ہیں۔ کئی ایسے افراد/خاندان بھی موجود ہیں جنہوں نے قبل از قیامِ پاکستان کسی غیر مسلم سے بذریعہ بیع نامہ کوئی خسرہ خریدا، بیع نامہ تحریر کر دیا گیا لیکن تقسیم پاک و ہند کی وجہ سے یہ اراضی کے قطعہ جات بیع نامہ رکھنے والوں کے نام انتقال نہ ہو سکے۔
اس نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایک اور انقلابی اقدام کا بندوبست کرنے کے لیے اپنے مشیرانِ خاص سے خوبصورت مشورہ کر لینا چاہیے کہ صوبہ پنجاب بھر کے طول و عرض میں جہاں بھی کوئی فرد یا خاندان دو یا تین نسلوں سے رہائشی یا آباد ہے یا اس کے پاس ملکیتِ اراضی کے متعلق کوئی تحریری ثبوت موجود ہے، تو مقامی نمبرداران، سماجی شخصیات کی تصدیق کے نتیجے میں ان تمام قابضانِ اراضی کو جتنا جلد ممکن ہو، انتہائی آسان طریقے سے لینڈ ریکارڈ میں مالکانِ اراضی قرار دے دیا جائے۔ میری مراد یہ ہے کہ انہیں حقوقِ ملکیت سے نواز دیا جائے اور سطور بالا میں جو قول "ایک چیز سب کے لیے” والا پیش کیا گیا ہے، اس کی عملی شکل ہمارے صوبہ پنجاب میں واقعی ثابت ہونے لگے گی۔
تو محترمہ وزیر اعلیٰ کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے سنہری الفاظ میں امر ہو جائے گا اور صوبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے وفاق تک کے لیے کسی بڑے خواب کو بھی دیکھنے کے لائق ہو سکتی ہیں۔
کیونکہ مجوزہ اقدام کی تکمیل سے کئی ملکیت سے محروم طبقات جب قابضان سے مالکان کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے، تو بیان بالا سطور میں بانی عوامی جمہوریہ چین کے جس عظیم رہنما ماؤ زے تنگ کا جو قول پیش کیا گیا ہے کہ "ایک چیز سب کے لیے دستیاب ہو”، تو وزیر اعلیٰ پنجاب کے مذکورہ انقلابی ویژن واقعی امر ہو جاتے ہیں۔
تو پھر پورے صوبہ پنجاب کے اندر ہر کوئی فرد "قابضِ دیہہ شاملات” نہ رہے گا بلکہ اصل مالکِ اراضی ثابت ہو جائے گا، اس کی آئندہ آنے والی نسلیں موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھیں گی۔
تحریر: پروفیسر افتخار محمود
پڑوی درویزہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم
فون نمبر 03065430285 – 03015430285


