سالِ نو

”سال نو“ فارسی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد نیا سال ہے۔ایک سال کے اختتام پر آنے والا اگلاسال۔حیات انسانی میں انضباط کے لیے تقسیمِ اوقات لازم تھی اور اللہ کریم نے حضرت آدم ؑ کے زمین پر اترنے سے پہلے ہی اس کا اہتمام فرما دیا۔ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاء وَالْقَمَرَ نُوراً وَقَدَّرَہُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُواْ عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللّہُ ذَلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونo(سورۃ یونس:5) ”وہی اللہ تو ہے جس نے سورج کو روشن کیا اور چاند کو نورانی (چمکنے والا) بنایا اور اُس (کی چال) کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرسکو۔اللہ نے اِن سب کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ یہ دلائل عقل مندوں کو صاف صاف بتا رہے ہیں“۔

تاریخِ انسانی میں برسوں کا شمار بھی اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ خود تاریخ۔ابتداء یہ شمار پھلوں اور پھولوں کے موسموں سے ہوا۔ باقاعدہ کھیتی باڑی شروع ہوئی تو فصلوں کے پکنے سے کیا جانے لگا۔حضرت ادریس،ؑ اللہ کے تیسرے نبی ؑ،نے سال کو مہینوں میں تقسیم کیا۔ان ہی کی قوم، بابل، نے شب و روز کی تقسیم گھنٹوں میں کی بعد میں تقسیم در تقسیم کایہ عمل منٹوں کو سیکنڈز تک لے گیا۔

تاریخِ عالم کا مطالعہ دنیا میں کم وبیش پندرہ تقاویم(Calenders) کا پتہ دیتا ہے۔جن میں وقت کے ساتھ مناسب ترامیم ہوتی رہیں۔مورخین کے مطابق ان کا اجراء عموماًتین بنیادوں پہ عمل میں آیا۔چاند کی گردش کو بنیاد بنانے پر قمری،سورج کو معیار بنانے پہ شمسی اور ستاروں کی بنیاد پر رائج ہونے والا نجومی کہلایا۔

شمسی اور قمری مہینوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ شمسی مہینوں کی نسبت قمری مہینوں میں موسم بدلتا رہتا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عبادات جو قمری مہینوں میں متعین فرما دیا۔ورنہ اگر دنیاوی امور کا حساب کتاب،دفتری اوقات کو شمسی مہینوں کے مطابق رکھ لیا جائے تو جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاء وَالْقَمَرَ نُوراًکے مطابق یہ غلط نہیں ہے۔وقت ایک ایسی چیز ہے جسے ناپا نہیں جاسکتا۔

تحقیق Nano Second (ایک سیکنڈ کاایک ارب واں حصہ)سے Plank Time (روشنی کے اپنے ممکنہ حد تک قریب ترین حصے تک پہنچنے کی رفتار)تک پہنچ کربھی حتمی قرار نہیں پائی۔اسی طرح وقت کی طوالت کی بھی کوئی حد نہیں۔قرآن پاک میں گناہگاروں کے دوزخ میں ٹھہرائے جانے کے بارے ارشاد ہے۔ ابِثِیْنَ فِیْہَا أَحْقَاباًo(سورۃ النبا:(23 ”اس میں وہ مدتوں پڑھے رہیں گے۔“ ٍیعنی وہ کئی حقبوں تک دوزخ میں رہیں گے۔

حضرت علی ؓ کی ایک روایت کے مطابق ایک حقبہ دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال کا بنتا ہے اور کئی حقبوں تک رہنے کے ضمن میں حقبوں کی تعداد رقم نہیں۔ گویا وقت کی طوالت کی پیمائش بھی ممکن نہیں۔

قارئین کرام! بات گھڑی پل کی ہو یاسالوں صدیوں کی،لحظہ کی ہویا حقبوں کی،بات تو یہ ہے کہ ہم نے اس وقت میں کیا کھویا؟ کیا پایا؟اس دارلعمل کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اس کے ایک ایک پل پہ اخروی حیات کی جزا وسزا کاانحصار ہے۔اللہ رب العزت نے موت کے وقت کوانسان سے مخفی رکھ کے اسے مزید بیش قیمت بنا دیاہے۔

اس وقت،اس حیات میں ہمیں جو وقت میسر ہے اگر ہم اس کی قدروقیمت کا احساس کرلیں تو یہ احساس ہمیں نہ صرف نیکی پرابھارے گا بلکہ ہمارے ایک ایک عمل کو مزید نکھارے گا۔ جنہیں اس دارالعمل میں ملنے والے وقت کی اہمیت کا اندازہ ہوا انہوں نے لمبی زندگی کی دعائیں مانگیں کہ اس دنیا میں روح،بدن کی مکلف ہے اور یہی ہیں وہ قیمتی لمحات جن میں کی جانے والی عبادت وریاضت انہیں قرب الہٰی سے نواز سکتی ہے۔

لہٰذا اس حیاتِ مستعار کا گزر جانے والا سال،پورے تین سو پینسٹھ دن ختم ہونے پہ جشن منانے کی نہیں،خود احتسابی کی ہے کہ ہم نے حیاتِ جادواں کے لئے کیا پایا؟ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھلنے والے نامۂ اعمال میں کیا لکھوایا؟ہمارے قدم جنت جودیدار باری کی جگہ ہے،اللہ کا انعام ہے،سردار انبیاء،رسل وانبیاء ؑ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین،شہدا،صوفیاء،اولیاء اللہ کی ابدی رہائش گاہ ہے کی طرف بڑھے یا خدانخواستہ!خدانخواستہ!! اس بڑھکتی ہوئی آگ کی طرف جو دن میں ستر مرتبہ خود سے پناہ مانگتی ہے؟۔

عمرِ رواں،سیل رواں کی طرح بڑھتی جارہی ہے،گزرتی جارہی ہے۔یہ کہاں ٹھہر جائے! کوئی نہیں جانتا،گزرتا وقت تو اپنے ہر سیکنڈپہ دستک دیتے ہوئے تنبیہ کئے جارہا ہے ضرورت اِس پہ کان دھرنے کی ہے۔

ٖغافل تجھے گھڑیال دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button