پاکستان کی سیاست میں کھچڑی وہ پکوان ہے جسے بنانے میں ہر پارٹی اور ہر سیاستدان اپنے ذائقے کا مصالحہ ڈالنے کو بےتاب رہتا ہے۔ کوئی کم نمک پسند کرتا ہے تو کوئی زیادہ، کسی کو مرچیں تیز چاہیے تو کوئی جیسا ہے ویسا ہی چلنے دیتا ہے۔ بس، یہی حال ہمارے سیاستدانوں کا ہے؛ ہر کسی کی اپنی الگ ترکیب ہے، مگر کھچڑی پھر بھی ٹھیک سے نہیں پک رہی!۔
حزبِ اختلاف والے سمجھتے ہیں کہ سیاست کی دیگچی میں نمک کم ہے، یعنی حکومت نے تو ملکی مسائل کو "پھیکا” کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہم اپنی خصوصی "مرچ مصالحہ” نہ ڈالیں، یہ کھچڑی کھانے کے قابل نہیں ہوگی۔ چنانچہ جلسے، ریلیاں، اور دھرنے لگا کر اپنی "چمچ” چلانا ان کی عادت ہے، بلکہ وہ اسے قومی خدمت سمجھتے ہیں۔ اگر ان سے کہا جائے کہ یہ کھچڑی اگر پکنے دیں تو شاید بہتر ہو جائے، تو جواب ملتا ہے، "بغیر مصالحے کے کیا مزہ!”۔
دوسری طرف حکومت کی حالت بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ وہ بیچاری یہ ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے کہ "ہماری کھچڑی بالکل صحیح ہے!” اور اگر کہیں تھوڑا ابال آ بھی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ بس عوامی خدمت کا جوش ہے۔ کچھ دن پہلے حکومت نے سوچا کہ دیگچی میں مزید کچھ خاص قسم کے اجزاء شامل کیے جائیں، تو نئے قانون اور پالیسیز کی شکل میں مصالحے ڈال دیے۔ اب پتا نہیں یہ مصالحے ہضم ہوں گے یا نہیں، مگر انہوں نے شور ضرور مچا دیا ہے کہ "کھچڑی زبردست ہو رہی ہے۔”
اب بیچاری عوام کا کیا کریں، جن کے سامنے روزانہ کھچڑی کا تذکرہ تو ہوتا ہے، مگر پلیٹ میں کھچڑی نظر نہیں آتی۔ کبھی مہنگائی کی مرچیں زیادہ ہو جاتی ہیں، کبھی بیروزگاری کی نمکینیاں کم ہو جاتی ہیں۔ عوام کے صبر کا عالم یہ ہے کہ وہ سوچتے ہیں کہ ہم بھوکے بھی رہ لیں گے، بس یہ دیگچی جو آئے دن ابل کر گر رہی ہے، اس کا کچھ کریں۔ مگر سیاستدان ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ عوام کو کھچڑی سے اتنی محبت ہے کہ وہ خالی دیگچی کو بھی چمچ سے کھانے لگیں گے۔
میڈیا اس کھچڑی کا "چھوٹا چمچ” ہے، جو تھوڑی تھوڑی کھچڑی باہر نکال کر عوام کو ذائقہ چکھاتا رہتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کھچڑی میں نمک زیادہ ہے، کوئی کہتا ہے مرچیں کم ہیں۔ اگر حکومتی چمچ سے کچھ نکلے تو وہ اسے خوب مصالحہ لگا کر پیش کرتے ہیں، اور حزبِ اختلاف کے چمچ سے کچھ نکلے تو اس پر کھٹا میٹھا تبصرہ کر کے عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔
تو جناب، اس سیاسی کھچڑی کا حال یہ ہے کہ کبھی پک کر بھی تیار ہو جائے تو بھی کچھ نہ کچھ کسر باقی رہ جاتی ہے۔ کوئی نیا سیاستدان آ کر اسے دوبارہ سے پکانے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں ملک کی سیاست میں کھچڑی ہمیشہ گرم رہتی ہے، بس کھانے کے لائق کبھی نہیں ہو پاتی۔ عوام یہ سوچتے ہیں کہ کاش کوئی ایک بار اس کھچڑی کو مکمل پکنے دے، مگر فی الحال لگتا ہے کہ سیاہ سی کھچڑی کا یہ پکوان یونہی ابلتا رہے گا، اور ہمیں اسی دیگچی کو خالی چمچ سے دیکھتے رہنا ہوگا۔


