کویت نے اقامہ خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے مزید سختی کردی

کویت سٹی: کویت نے اقامہ خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے مزید سختی کرتے ہوئے جرمانے کی ادائیگی پر غیرملکیوں کو حیثیت تبدیل کروانے کی اجازت دینے والے حکم نامہ پر عملدرآمد روک دیا، رہائش کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنی حیثیت کو درست کرنے کے لیے کوئی رعایتی مدت نہیں دی جائے گی۔

مقامی میڈیا کے مطابق کویت نے غیر قانونی مقیم افراد کے لیے جرمانے کی معافی کی سکیم روک دی ہے، حکام نے غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدری اور ان پر پابندیاں عائد کرنے کا اشارہ دیا ہے، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے کویتی حکام نے 2020ء سے پہلے ملک میں آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو مخصوص جرمانے کی ادائیگی کے بدلے اپنی حیثیت کو تبدیل کرنے کی اجازت دینے والے ایک مختصر مدت کے حکم نامے پر عملدرآمد کو روک دیا ہے۔

کویتی اخبار الانباء نے کچھ دن پہلے جاری کی جانے والی وزارت داخلہ کی زبانی ہدایات کا حوالہ دیا جس میں اس حکم نامے پر عمل درآمد روکا گیا جس سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند افراد کی تعداد 1 لاکھ 10 ہزار غیر ملکیوں تک پہنچ چکی ہے، ایک سکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’وزارت داخلہ اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک سے ڈی پورٹ کرنے کے اپنے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے جیسا کہ پہلے ہوتا تھا‘۔

کویتی اخبار القبس نے رپورٹ کیا ہے کہ کویت نے گزشتہ سال ریکارڈ 42 ہزار تارکین وطن کو ملک کے رہائشی اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں کے جرائم میں ملوث ہونے پر ملک بدر کیا، کویت نے حال ہی میں غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر قانونی رہائشی کو چھپانے والے کو بھی ملک بدر کر دیا جائے گا۔

معلوم ہوا ہے کہ کویتی افراد یا کمپنیوں کو تارکین کو غیر قانونی طور پر پناہ دینے اور غیر قانونی افراد کو چھپانے پر سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا، خلیجی ملک کی 4 اعشاریہ 6 ملین کی مجموعی آبادی میں غیر ملکیوں کی تعداد تقریباً 3 اعشاریہ 2 ملین ہے، اس لیے کویت اپنی آبادی کے عدم توازن کو دور کرنے اور غیر ملکی کارکنوں کی جگہ اپنے شہریوں سے ملازمت کی پالیسی کے ایک حصے کے طور پر "کویتائزیشن” کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button