جہلم شہر کے گنجان آباد علاقوں اور مضافات میں نان رجسٹرڈ نجی سکولوں کی بھرمار، ناقص تعلیمی معیار، غیر معیاری عمارتیں اور نا تجربہ کار اساتذہ بچوں کے مستقبل سے کھیلنے لگے۔ غیر رجسٹرڈ سکولوں میں صفائی کے ناقص انتظامات، کھیل کے میدانوں کا فقدان اور غیر معیاری تدریسی عمل کے باعث والدین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر اور اس کے گردونواح میں بے شمار غیر قانونی نجی سکول قائم ہو چکے ہیں، جہاں تعلیم کے نام پر لوٹ مار جاری ہے۔ یہ سکول دو سے چار کمروں پر مشتمل مخدوش عمارتوں میں قائم ہیں، جہاں نہ تو روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام ہے اور نہ ہی صفائی کے معیاری اصولوں پر عمل کیا جا رہا ہے۔
ان نجی سکولوں میں میٹرک اور ایف اے پاس ناتجربہ کار خواتین اساتذہ کو 10 سے 15 ہزار روپے کی معمولی تنخواہ پر بھرتی کر کے تدریسی عمل سونپا جا رہا ہے، جبکہ سکول مالکان بھاری فیسوں کے نام پر لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں۔ غیر معیاری تدریسی عمل کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
علاقے کے سیاسی و سماجی حلقوں نے محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نان رجسٹرڈ سکولوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور انہیں بند کرایا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تعلیم کے نام پر کاروبار کرنے اور بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں تاکہ معیاری اور محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔


