پاکستان میں فیول ایوریج اور پائیداری کے باعث ہونڈا کی سی ڈی 70 بے حد مقبول ہے لیکن مہنگائی کے باعث آسمانوں سے باتیں کرتی قیمتوں نے شہریوں کی قوت پر خرید پر گہرا اثر ڈالاہے اور کمپنی کو بھی سیلز میں کمی کا سامنا ہے ۔
یہ موٹر سائیکل اپنی قابل اعتماد کارکردگی، ایندھن کی بچت اور مناسب قیمت کی وجہ سے پاکستان میں فروخت کے چارٹ میں سرفہرست ہے، حالانکہ مارکیٹ میں کئی حریف گاڑیاں موجود ہیں۔
رواں سال کے آغاز میں اٹلس ہونڈا نے سی ڈی 70 کا 2025 ماڈل متعارف کرایا، جس میں ایندھن کے ٹینک اور سائیڈ کورز پر نئے اسٹیکر ڈیزائن شامل کیے گئے، تاہم اس کے ڈھانچے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کی گئی۔
یہ موٹر سائیکل 72 سی سی فور اسٹروک ایئر کولڈ انجن سے لیس ہے، جو ایندھن کی بچت اور پائیداری کے لیے مشہور ہے۔ یہ شہری علاقوں میں سفر اور مختصر دوروں کے لیے مناسب طاقت فراہم کرتا ہے۔
پاکستان میں ہونڈا سی ڈی 70 کو اس کی ابتدائی خریداری قیمت اور کم دیکھ بھال کے اخراجات کی وجہ سے ایک سستی موٹر سائیکل سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف طبقوں میں اس کی مقبولیت کافی زیادہ ہے۔
ہونڈا سی ڈی 70 ریڈ کی قیمت
مقامی مارکیٹ میں ہونڈا سی ڈی 70 ریڈ کی قیمت نومبر 2024 میں 1,57,900 روپے مقرر کی گئی ہے۔ سیاہ رنگ میں بھی یہی قیمت رکھی گئی ہے۔
ہونڈا سی ڈی 70 ریڈ کی قسطوں کا پلان
میزان بینک ایک سال کی مدت کے لیے آسان قسطوں کا منصوبہ پیش کرتا ہے۔ اس پلان کے تحت خریدار کو 64,960 روپے کی ابتدائی ادائیگی کرنا ہوگی، جبکہ 12 ماہ کے لیے ماہانہ قسط 7,895 روپے ہوگی۔



تعلیم کسی بھی دور میں حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔ سوچے سمجھے بغیر نئے نئے تجربات جاری رہے۔ کبھی اردو میڈیم تو کبھی انگریزی میڈیم۔ سرکاری سکولوں کی حالت پر کبھی توجہ نہیں دی گئی ۔ لہذا عوام کا رحجان پرائیویٹ سکولوں کی طرف رہا۔لیکن ان اداروں میں تعلیم و تربیت کی بجائے دوسری سرگرمیوں کی طرف توجہ دی گئی اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے پر دھیان رہا۔ اس صورتحال میں مجموعی طور پر کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ نقل کے رجحان پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔ ان سب وجوہات کی وجہ سے ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ مطلوبہ قابلیت کے حصول میں کامیاب نا ہو سکے
تعلیم کسی بھی دور میں حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔ سوچے سمجھے بغیر نئے نئے تجربات جاری رہے۔ کبھی اردو میڈیم تو کبھی انگریزی میڈیم۔ سرکاری سکولوں کی حالت پر کبھی توجہ نہیں دی گئی ۔ لہذا عوام کا رحجان پرائیویٹ سکولوں کی طرف رہا۔لیکن ان اداروں میں تعلیم و تربیت کی بجائے دوسری سرگرمیوں کی طرف توجہ دی گئی اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے پر دھیان رہا۔ اس صورتحال میں مجموعی طور پر کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ نقل کے رجحان پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔ ان سب وجوہات کی وجہ سے ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ مطلوبہ قابلیت کے حصول میں کامیاب نا ہو سکے