جہلم میں بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کاسامنا، نو تعینات ڈی ایس پی ٹریفک اور ان کا عملہ ٹریفک کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام، ڈی ایس پی سارا دن ٹھنڈے کمرے میں مزے لینے میں مصروف، سائلین ذلیل و خوار ہونے لگے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم میں نئے تعینات ہونے والے ڈی ایس پی ٹریفک پولیس ٹھنڈے کمرے تک محدود ہو گئے، نئے لائسنس کے حصول کے لیے آنے والے سائلین ذلیل و خوار ہونے لگے، ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کی اوپن ڈور پالیسی کے احکامات ہوا میں اڑا دیے۔
ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ کے دفتر کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے کھلے ہیں اس کے بر عکس ڈی ایس پی ٹریفک کے دفترمیں وی آئی پی ماحول ہے، سائلین کو اندر جانے سے دروازے پر ہی روک دیا جانے لگا ہے اوپر سے انوکھی روایت قائم کر لی گئی کہ ٹریفک کنڑول کرنا ضروری نہیں بس چالان کرو، چالان کی تعداد بڑھاؤ بس۔ لائسنسنگ برانچ میں ناتجربہ کار عملہ کی وجہ سے نئے لائسنس کا اجراء انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
شہریوں کے مطابق پہلے ٹریفک پولیس کے پاس یہ بہانا تھا کہ ٹریفک پولیس کی نفری بہت کم ہے اب تو وزیر اعلی پنجاب اورڈی آئی جی ٹریفک پولیس پنجاب کی کاوش سے ٹریفک پولیس کی نفری بھی بڑھا دی گئی اس کے باوجود شہر بھر میں ٹریفک کانظام درہم برہم ہے۔
چوک اہلحدیث ،گنبد والی مسجد ،تحصیل روڈ، شاندار چوک، ریلوے روڈ پر رکشہ مافیا کا راج ہے۔ سول لائن روڈ، شاندار چوک اور تحصیل روڈ پر گھنٹوں ٹریفک کی لمبی لمبی قطاریں لگنا معمول بن گیا ہے جس کی وجہ سے شہری پریشان ہیں۔
سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور ڈی آئی جی ٹریفک پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈی ایس پی ٹریفک سمیت ٹریفک پولیس کا عملہ فوری تبدیل کیاجائے۔


