جہلم: عیدالاضحیٰ جیسے اہم مذہبی تہوار سے قبل مہنگائی کے طوفان نے غریب اور سفید پوش طبقے کی خوشیوں کو ماند کر دیا ہے۔ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 100 سے 150 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
شہریوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال نہ صرف آٹا، چینی، گھی، سبزی، گوشت بلکہ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ جو جانور گزشتہ سال 50 ہزار روپے میں دستیاب تھا، وہ اب ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں بھی مشکل سے مل رہا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ لہر نے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی محال بنا دیا ہے۔
سفید پوش طبقہ اور غریب عوام عید سے قبل شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں، جبکہ حکمران طبقہ ایک ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے قوم کو گروی رکھ چکا ہے۔
شہریوں نے حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کو قابو میں لانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ غریب اور متوسط طبقہ عید قربان جیسے تہوار کو عزت و وقار سے مناسکے اور اپنے بچوں کو کم از کم دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی ہی مہیا کر سکے۔


